:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کاصوبے بھر میں سکیورٹی اور ٹریفک کے فول پروف انتظامات کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر صوبے بھر میں سکیورٹی اور ٹریفک کے انتظامات کو فول پروف بنانے کا حکم دے دیا ہے انہوں نے لاہور ملتان اور دیگر بڑے شہروں میں مویشی منڈیوں کے اطراف ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ساتھ ہی مویشی منڈیوں میں سکیورٹی بڑھانے اور ٹریفک کی مسلسل مانیٹرنگ کا حکم بھی جاری کیا ہے وزیراعلیٰ نے ٹرانسپورٹ کے کرایوں سے متعلق بھی سخت احکامات دیے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ ہر شہر میں بسوں کے مقررہ کرایوں پر سختی سے عمل کروایا جائے بسوں کی ونڈ سکرین پر کرائے نامے اور فٹنس سرٹیفکیٹس آویزاں ہونے چاہئیں زائد کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور اضافی رقم واپس کروائی جائے مریم نواز شریف نے لائیوسٹاک حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ مویشی منڈیوں میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں انتظامیہ اور پولیس افسران بھی فیلڈ میں متحرک رہیں تاکہ عوام کو کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ ہو انہوں نے کہا ہے کہ صوبائی ڈویژنل ضلعی اور تحصیل سطح پر صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے اور باقاعدگی سے رپورٹ پیش کی جائے تاکہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر شہریوں کو سہولت اور تحفظ فراہم کیا جا سکے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔