عالمی برادری فلسطینیوں کیلئے خوراک، مالی و طبی امداد فراہم کرے، جنیوا اجلاس میں پاکستان کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
عالمی برادری فلسطینیوں کیلئے خوراک، مالی و طبی امداد فراہم کرے، جنیوا اجلاس میں پاکستان کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 6 June, 2025 سب نیوز
جنیوا (سب نیوز )جنیوا میں محنت کشوں کے عالمی ادارے کے رکن ممالک کے وزرا کا اجلاس منعقد ہوا جس میں چودھری سالک حسین نے فلسطینیوں کیلئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ وفاقی وزیر نے غزہ میں نہتے شہریوں کے خلاف مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری فلسطینیوں کیلئے خوراک، مالی و طبی امداد فراہم کرے، یو این، محنت کشوں کیعالمی ادارے غزہ میں قتل عام روکیں، پاکستان کی توجہ محنت کشوں کا تحفظ یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔
سمندر پار پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر چودھری سالک حسین نے فلسطینیوں کیلئے پاکستان کی حکومت اور عوام کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے اس حمایت کا اظہار جنیوا میں عرب لیبر آرگنائزیشن کے زیراہتمام فلسطینی محنت کشوں اور عوام کے ساتھ بین الاقوامی یکجہتی اجلاس کے عنوان سے ایک تقریب میں کیا۔
چودھری سالک حسین نے غزہ میں بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت نہتے شہریوں کیخلاف طاقت کے استعمال اور مظالم کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کیلئے خوراک، مالی اور طبی امداد فوری فراہم کریں۔وفاقی وزیر نے قتل عام روکنے اور معمولات زندگی بحال کرنے کیلئے اقوام متحدہ اور محنت کشوں کے عالمی ادارے سے فوری اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔ اجلاس میں محنت کشوں کے عالمی ادارے کے رکن ممالک کے وزرا او ر سینئر عہدیداروں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔
فلسطین کے وزیر محنت Anaas Atari نے بھی عرب ممالک کی اعلی قیادت، محنت کشوں کے عالمی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل اور انٹر نیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن کے سیکرٹری جنرل کے ہمراہ اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے بچوں اور خواتین سمیت فلسطینیوں کی نسل کشی کی بھی مذمت کی۔ادھر سمندر پار پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر نے جنیوا میں انٹرنیشنل ٹریڈیونین کنفیڈریشن کے سیکرٹری جنرل Luc Triangle سے بھی ملاقات کی۔
وفاقی وزیر نے Decent ورک کنٹری پروگرام کے تحت محنت کے عالمی معیارات اور ملکی کوششوں کے پاکستان کے عزم پر زور دیا جس کا مقصد اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت محنت کشوں کیلئے حالات بہتر بنانا ہے۔چودھری سالک حسین نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کی توجہ بیرون ملک مقیم محنت کشوں کا تحفظ یقینی بنانے اور سماجی تحفظ کے نظام کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔دونوں مواقع پر جنیوا میں اقوا م متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے بلال احمد،Ophrd کے جوائنٹ سیکرٹری سلیمان غنی، سیکرٹری ورکرز ویلفیئر فنڈ ذوالفقار احمد اور پاکستان کے دیگر حکام وفاقی وزیر کے ہمراہ تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کی طبیعت اچانک ناساز، اسپتال منتقل سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کی طبیعت اچانک ناساز، اسپتال منتقل چین کی پاکستان کو ففتھ جنریشن اسٹیلتھ طیارے اور ڈیفنس سسٹم دینے کی پیشکش پاکستان عالمی سطح پر ضابطوں اور اختراعات کے فریم ورک کی تشکیل کا بغور جائزہ لے رہا ہے، بلال بن ثاقب حکومت کا 2029 تک ملکی ترقی کی شرح 6 فیصد تک پہنچانے کا اعلان آئندہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نافذ کرنے کا ارادہ نہیں: خیبر پختونخوا حکومت وزیرِ اعظم، فیلڈ مارشل کی وفد کے ہمراہ عمرے کی ادائیگی، خانہ کعبہ میں نوافل ادا کیےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عالمی برادری اجلاس میں
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔