آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کس وزارت کیلئے کتنا پی ایس ڈی پی مختص ہوگا ؟ تفصیل سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
نئے بجٹ میں پی ایس ڈی پی کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کس وزارت کیلئے کتنا پی ایس ڈی پی مختص ہوگا اس کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔
بجٹ دستاویز کے مطابق 41 وزارتوں و ڈویژنز پر 682 ارب 79 کروڑ روپے خرچ ہوں گے، دو کارپوریشنز کے لیے 317 ارب 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، این ایچ اے کو سڑکوں کی تعمیر کے لیے 227 ارب روپے ملیں گے، پاور ڈویژن اور این ٹی ڈی سی کے لیے 90 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے، آبی وسائل کے لیے 133 ارب 42 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق صوبوں اور خصوصی علاقوں کے لیے 253 ارب روپے سے زائد رکھے گئے ہیں، صوبائی منصوبوں کے لیے 105 ارب 78 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، سابق فاٹا کے لیے 65 ارب 44 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو 82 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز دیے جائیں گے، ارکان پارلیمنٹ کی اسکیموں کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،ایچ ای سی کے لیے 39 ارب 40 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں،
دستاویز کے مطابق وفاقی تعلیم کے منصوبوں کے لیے 13 ارب 50 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، قومی صحت کے منصوبوں کے لیے 14 ارب 34 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، وزارت داخلہ کے لیے 12 ارب 90 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، دستاویریلوے کے لیے 22 ارب 41 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، وزارت منصوبہ بندی کے لیے 21 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں،آئی ٹی اور ٹیلی کام شعبے کے لیے 16 ارب روپے سے زیادہ رکھے گئے ہیں۔
دستاویزہاؤسنگ اینڈ ورکس کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ریونیو ڈویژن کے لیے 7 ارب روپے سے زائد رکھے گئے ہیں، دفاعی ڈویژن کے لیے 11 ارب 55 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، وزارت اطلاعات کے لیے 6 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں، سپارکو کے لیے 5 ارب 41 کروڑ روپے ترقیاتی بجٹ میں رکھے گئے ہیں، دفاعی پیداوار کے لیے ایک ارب 75 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق فوڈ سیکیورٹی کے لیے 4 ارب روپے سے زائد کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 4 ارب روپے رکھے گئے ہیں، میری ٹائمز امور کے لیے 3 ارب 56 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، ماحولیاتی تبدیلی کے لیے 2 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، صنعت و پیداوار کے لیے ایک ارب 90 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، سرمایہ کاری بورڈ کے لیے ایک ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق بین الصوبائی رابطہ کے لیے ایک ارب 17 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، امور کشمیر کے لیے ایک ارب 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، وزارت قانون کے لیے ایک ارب 39 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، قومی ورثہ کے لیے ایک ارب 67 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، ایٹمی توانائی کمیشن کے لیے 76 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، ایس آئی ایف سی کے لیے 50 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں دستاویز کے مطابق ارب روپے سے زائد کے لیے ایک ارب
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔