مرتضیٰ وہاب کی ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کو ساتھ ملکر کام کرنے کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
پریس کانفرنس کے دوران میئر کراچی نے حکام سے کہا کہ میں اچھے کام پر آپ تمام کو شاباش دینا چاہوں گا، ایسٹ، سینٹرل اور جنوبی کے کچھ علاقوں میں رات گئے تک کام کیا، عرق گلاب سے سڑکیں بھی دھوئیں، ہم تنقید کا جواب کام سے دیں گے، کہیں بری چیز ہوتی ہے تو کہتے ہیں میئر ناکام ہوگیا۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے ایم کیو ایم پاکستان اور جماعتِ اسلامی کو ساتھ مل کر کام کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں شہر کا نقصان ہوگا، مل کر کام کریں گے، شہر کی خدمت بھی ہوگی کام بھی ہوگا۔ کراچی میں سندھ سولڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ مصطفیٰ بھائی اور منعم بھائی، پریس کانفرنس چھوڑیں، آئیں ہمارے ساتھ بیٹھیں۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے سندھ سولڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ حکام سے کہا کہ میں اچھے کام پر آپ تمام کو شاباش دینا چاہوں گا، ایسٹ، سینٹرل اور جنوبی کے کچھ علاقوں میں رات گئے تک کام کیا، عرق گلاب سے سڑکیں بھی دھوئیں، ہم تنقید کا جواب کام سے دیں گے، کہیں بری چیز ہوتی ہے تو کہتے ہیں میئر ناکام ہوگیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چربی مافیا عید کے دنوں میں کافی فعال ہو جاتا ہے، چربی مافیا کے سلسلے میں کراچی پولیس چیف سے رابطہ کیا تھا، کراچی میں 144 ایف آئی آر کاٹی گئیں اور 348 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس چیف سے چربی اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی پر بات کی، سڑکوں پر آلائشیں اور چربی اٹھانے والوں کے خلاف 144 مقدمات قائم ہوئے، 94 شکایتوں کا جگہ کا تعین نہ ہونے کے باعث ازالہ نہ ہو سکا۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اب تک 146801 آلائشیں اور کچرا لینڈ فِل سائٹ پر پہنچایا جا چکا ہے، 95654 ٹن آلائشیں اور 51 ہزار ٹن کچرا لینڈ فِل سائٹس تک پہنچایا گیا۔ میئر کراچی کا کہنا تھا کہ کے ایم سی کی چھوٹی گاڑیاں گلیوں سے آلائشیں اٹھا رہی تھیں، 96 کلیکشن پوائنٹس پر آلائشیں لا کر پھر انہیں لینڈ فِل تک پہنچایا گیا، ٹاؤن چیئرمینز اور سندھ سولڈ ویسٹ کا عملہ موجود تھا، سب نے مل کر کام کیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ صفائی کرنے میں کامیاب ہوئے، ایسٹ، سینٹرل اور جنوبی کے کچھ علاقوں میں رات گئے تک کام کیا۔ میئر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اس مرتبہ لینڈ فِل جانے والی سڑکیں بھی صاف تھیں، 1128 ہیلپ لائن چوبیس گھنٹے چلتی رہی، ہیلپ لائن پر یومیہ 3619 شکایات موصول ہوئی تھیں۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جہانگیر روڈ پر شکایات آئیں تو ہم نے کارروائی کی، طارق روڈ پر آلائشیں نظر آئیں، ایکشن لیا، سینٹرل کے تمام ایریاز میں اچھی صورتحال نظر آئی، نیو کراچی کے کچھ علاقوں میں صورتحال انتہائی خراب دکھائی دی، لیاری میں بہت بڑا چیلنج ہوتا تھا اس بار اچھی صورتحال رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے کچھ علاقوں میں وہاب نے کہا کہ لینڈ ف ل کام کیا کام کی کام سے کر کام
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔