وزیراعظم اعلیٰ سطحی وفد کیساتھ کل دورہ متحدہ عرب امارات پر روانہ ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف کل 12 جون کو متحدہ عرب امارات کے دورے پر جائیں گے۔
یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی اعتماد، مشترک اقدار اور مختلف شعبہ جات میں تعاون پر مبنی برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:متحدہ عرب امارات نےعربی زبان میں مصنوعی ذہانت کے لیے ایک نیا ماڈل لانچ کردیا
دورہ متحدہ عرب امارات میں وزیراعظم ایک اعلٰی سطحی وفد کی قیادت کریں گے۔
وفد میں نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اور سرکاری افسران شامل ہوں گے۔ دورے کے دوران وزیراعظم اماراتی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارت کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زائد النہیان کے ساتھ دوطرفہ ملاقات بھی کریں گے۔
ملاقات میں علاقائی اور عالمی اعتبار سے باہمی مفاد اور دو طرفہ دلچسپی کے اُمور زیرِغور آئیں گے۔
وزیراعظم کے دورہ دونوں ملکوں کے مابین مستقبل میں معاشی اور کثیرالجہتی باہمی تعاون کے ساتھ ساتھ برادرانہ تعلقات کی مظبوطی کے لئے اہم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شیخ محمد بن زائد النہیان متحدہ عرب امارات وزیراعظم یو اے ای.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شیخ محمد بن زائد النہیان متحدہ عرب امارات یو اے ای متحدہ عرب امارات کے ساتھ
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔