Express News:
2026-06-03@05:17:28 GMT

بچوں میں دماغی کینسر کی ابتدائی علامات

اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT

بچوں میں دماغی کینسر کی ابتدائی علامات عمر، کینسر کی قسم، اور دماغ کے جس حصے میں رسولی بنتی ہے اس پر منحصر ہوتی ہیں۔

درج ذیل یہاں عام علامات کی ایک فہرست دی جا رہی ہے جن کا مشاہدہ کرکے والدین جلد از جلد مرض کے علاج پر توجہ دے سکتے ہیں۔

1) سر درد؛ خاص طور پر صبح کے وقت اور وقت کے ساتھ شدید ہوجانا۔ عموماً درد کی شدت بڑھتی جاتی ہے۔

2) متلی اور قے؛ بغیر کسی خاص وجہ کے سر درد کے ساتھ یا اس کے بغیر متلی اور قے ہونا۔

3) نظر کی خرابی: اس میں دھندلا دکھائی دیتا ہے اور دہرا نظر آتا ہے۔

4) توازن یا حرکت میں مشکل: چلنے میں لڑکھڑاہٹ کا تجربہ ہونا۔

5) کمزوری؛ دماغی کینسر میں مبتلا بچوں کی رنگت پیلی ہوسکتی ہے اور ساتھ ساتھ تھکاوٹ کا بھی احساس ہوتا ہے۔ جسم کے ایک حصے میں کمزوری محسوس ہونا اور دورے پڑنا خاص طور پر اگر پہلے کبھی نہیں ہوئے۔

6) ذہنی رویے کی تبدیلی؛ ذہنی یا رویے کی تبدیلیاں رونما ہونا جیسے چڑچڑاپن، توجہ دینے میں دشواری۔

7) سر کا سائز بڑھ جانا (چھوٹے بچوں میں)؛ دماغی کینسر والے چھوٹے بچوں میں ایک خاص علامت سر کا بھی بڑھ جانا ہے کیونکہ سر کی ہڈیاں ابھی مکمل جڑی نہیں ہوتیں

8) ہارمون کی تبدیلیاں؛ دماغی کینسر کیوجہ سے بلوغت سے پہلے ہارمونز کی علامات بھی ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں یا پھر تاخیر سے ظاہر ہوتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دماغی کینسر بچوں میں

پڑھیں:

تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائل

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔

متعلقہ مضامین

  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟