سٹیل ملز سکریپ کردی جائے گی بحالی کے چانسز کم ہیں :معاون خصوصی ہارون اختر
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت اور پیداوار ہارون اختر نے نے کہا ہے کہ سٹیل ملز سکریپ کردی جائے گی کیونکہ اس کی بحالی کے چانسز کم ہیں اور نقصان پہنچانے والے حکومتی اداروں کو بند کرنا ہے۔
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مہنگائی میں کمی کرکے عوام کو تحفہ دیا، نقصان پہنچانے والے حکومتی ملکیتی اداروں کو بند کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری نئی ٹیرف پالیسی آئی ہے، جس سے کاسٹ کم ہوگی، انٹرسٹ ریٹ کم ہوگئے ہیں اور مزید کم ہوں گے، ٹیکس ریٹس بھی مزید کم ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ برآمدات فوکسڈ مینو فیکچورنگ صنعت کی پالیسی لے کر آئے ہیں جس سے ملک میں سرمایہ کاری آئے گی، ہمارا وژن ہے پاکستان کی صنعتی گروتھ 6 سے 7 فیصد تک پہنچے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی نے حکومتی ملکیتی اداروں کی نج کاری کے بارے میں بتایا کہ سٹیل ملزسکریپ کر دی جائے گی، بحالی کے چانسز کم ہیں، یوٹیلیٹی سٹورز میں بے ضابطگیاں ہوئیں، ایسے لوگ آئے جنہیں نہیں آنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اورارجنٹینا میں بھی خسارے والے ادارے بند ہوئے، ماضی کی غلطیوں کا بوجھ ساری عمر حکومتیں نہیں اٹھا سکتیں۔ان کا کہنا تھا کہ چار دن کی جنگ میں بھارت کے خلاف ہمارے عوام بھی کھڑے رہے۔
ہارون اختر نے کہا کہ ہر کسی کو مارکیٹ ویلیو کے مطابق قیمت دینی چاہیے، قیمت نہ ملے تو لوگ کارکردگی نہیں دکھائیں گے، 9سال سے اراکین اسمبلی کی تنخواہ نہیں بڑھی، چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ جو قائم مقام صدر مملکت بھی بنتا ہے دو لاکھ روپے ہے، سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ بھی دو لاکھ ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بتایا کہ پارلیمٹ میں تمام اراکین صنعت کار نہیں ہے، آہستہ آہستہ تنخواہ بڑھنی تھی جو نہیں بڑھی اور اب اس کو 9 سال بعد بڑھایا گیا ہے جہاں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اچانک اضافے پر تنقید کی جا رہی ہے، وہیں سرکاری ملازمین کے تنخواہوں میں اضافے اور تنخواہ دار طبقے کے ٹیکسز کم کرنے کو سراہا جا رہا ہے۔
امریکہ نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کو اہم شراکت دار قرار دیدیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔