وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور دیگر کی تنخواہوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین سینیٹ ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسپیکر اور چیئرمین سے رپورٹ طلب کرلی ہے.

ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم رپورٹ کی روشنی میں  اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافے پر فیصلہ کریں گے۔واضح رہے کہ اسپیکر، چیئرمین سینیٹ سمیت اراکین کی تنخواہوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے جس سے اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ لاکھوں روپے ہوگئی ہے،  جب کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لیے 10 فیصد تک تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا ہےدوسری جانب وزیر دفاع اور لیگی رہنما خواجہ آصف نے اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ سمیت دیگر کی تنخواہوں میں اضافے پر عوامی تنقید کے بعد اسے معاشی فحاشی قرار  دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے تنخواہوں اور مالی مراعات میں اضافے کی مخالفت کی۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کی تنخواہوں میں اضافے تنخواہوں میں اضافے کا اسپیکر قومی اسمبلی چیئرمین سینیٹ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کردیا گیا
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن