Jang News:
2026-07-24@01:51:23 GMT

فپواسا کی ڈاکٹر عبدالمجید پیرزادہ کی برطرفی کی مذمت

اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT

فپواسا کی ڈاکٹر عبدالمجید پیرزادہ کی برطرفی کی مذمت

—فائل فوٹو

فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز (فپواسا) نے کہا ہے کہ وہ سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی (ایس ایم آئی یو) کراچی کے فیکلٹی رکن ڈاکٹر عبدالمجید پیرزادہ کی غیر منصفانہ برطرفی کی شدید مذمت کرتی ہے۔

جاری کیے گئے بیان میں فپواساکا کہنا ہے کہ یہ اچانک اور بلا جواز اقدام ضابطہ جاتی عمل کی سنگین خلاف ورزی اور مقررہ تادیبی قوانین کو نظر انداز کرنے کا عکاس ہے، جو ادارے کی ساکھ اور تقدس کےلیے خطرہ بن چکا ہے، یہ امر نہایت تشویشناک ہے کہ ڈاکٹر پیرزادہ کی برطرفی بظاہر ایک انتقامی کارروائی معلوم ہوتی ہے، جو اُن کی جانب سے جامعہ میں کرپشن اور انتظامی بے ضابطگیوں کو بے نقاب کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز نے کہا ہے کہ بجائے اس کے کہ یونیورسٹی انتظامیہ ان سنگین معاملات کا سنجیدگی سے نوٹس لیتی، اس نے اختلافِ رائے کو دبانے اور حق گوئی کرنے والے استاد کو نشانہ بنانے کا راستہ اختیار کیا، اس اقدام نے اساتذہ کے درمیان خوف، غیر یقینی اور دھونس کا ماحول پیدا کر دیا ہے، جو علمی آزادی کو بری طرح متاثر کر رہا ہے اور یونیورسٹی کی گورننس پر اعتماد کو مجروح کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے فپواسا کی اپیل پر سندھ کی سرکاری جامعات میں تدریسی عمل کا بائیکاٹ

فپواسا کا کہنا ہے کہ ان سنگین حالات کے پیشِ نظر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، جو سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں، ان سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور ڈاکٹر پیرزادہ کی برطرفی کے پسِ منظر میں مکمل طور پر غیر جانبدار، شفاف اور منصفانہ انکوائری کا حکم جاری کریں۔

فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز نے گورنر سندھ کامران ٹیسوری سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ مداخلت فرمائیں اور جامعہ کے اساتذہ کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور ادارے کی ساکھ کی بحالی کو یقینی بنائیں۔

فپواسا نے پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر پیرزادہ کو فوری بحال کیا جائے تاکہ آزادانہ انکوائری مکمل ہونے تک انہیں ان کے عہدے پر بحال رکھا جا سکے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فپواسا یونیورسٹی انتظامیہ اور تمام متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ اساتذہ کو ہراسانی، انتقامی کارروائی یا کسی بھی قسم کے دباؤ سے مکمل تحفظ دیا جائے تاکہ وہ اپنے آئینی حقِ آزادیٔ اظہار، علمی خود مختاری اور پیشہ ورانہ دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں۔

فپواسا نے ڈاکٹر پیرزادہ اور وسیع علمی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر انصاف، شفافیت اور علمی آزادی کے تحفظ کے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہیں، فپواسا ہر قسم کی ناانصافی کے خلاف بھرپور آواز اٹھاتی رہے گی اور ملک بھر میں اساتذہ کے حقوق اور وقار کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر پیرزادہ پیرزادہ کی

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن