بھارتی شہر حیدرآباد میں ایئر انڈیا کا مسافر بردار طیارہ اُڑان بھرنے کے محض ایک منٹ بعد ہی گر کر تباہ ہوگیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مسافر طیارے میں 242 مسافر اور عملے کے ارکان موجود تھے جب کہ طیارہ ایک ہاسٹل پر گرا تھا جہاں بڑی تباہی ہوئی۔

طیارہ حادثہ اتنا خوفناک تھا کہ کسی کے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑ گئی تھیں۔ آگ کے بلند شعلے آسمان کو چھو رہے تھے اور پاسٹل کی عمارت بری طرح جل گئی۔

ریسکیو ٹیموں نے امدادی کاموں کا آغاز کیا تو طیارے کے ملبے سے جلی ہوئی ناقابل شناخت لاشیں ملیں۔ ہلاکتوں کی تعداد 240 سے زائد بتائی جا رہی ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں ہاسٹل کے طلبا بھی شامل ہیں جب کہ طیارے کے تمام مسافر جس میں اعلیٰ سرکاری عہدیدار، غیر ملکی باشندے اور شیر خوار بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہوگئے۔

تاہم اب یہ اطلاع آ رہی ہے 242 مسافروں میں سے ایک 38 سالہ مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہا جس کی شناخت رمیش کے نام ہوئی۔

رمیش کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں اسے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ ریسکیو ٹیم نے ایک مسافر کے زندہ بچ جانے کو ایک معجزہ قرار دیا۔

زندہ بچ جانے والے واحد مسافر رمیش کے اہل خانہ کو خبر ملی تو وہ فرط جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔ اسپتال میں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ زندہ بچ جانے والا مسافر پچھلی سیٹوں پر بیٹھا تھا اور جب طیارہ ہاسٹل کی چھت پر گرا تو جہاں مسافر بیٹھا وہ حصہ جلنے سے رہ گیا۔

 

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی