شہری نے بیٹے کے اعضاء عطیہ کردیئے، 5 افراد کو نئی زندگی مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
مردان ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون 2025ء ) صوبہ خیبرپختونخواہ کے علاقہ مردان میں شہری نے بیٹے کے اعضاء عطیہ کردیئے جن سے 5 افراد کو نئی زندگی مل گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جب حادثے میں زخمی بیٹے کے زندہ بچنے کی امید نہ رہی تو شہری نے اپنی زندگی کا یہ اہم ترین فیصلہ کیا اور اپنے بیٹے کو ہمیشہ دوسروں میں زندہ رکھنے کے لیے اس کے اعضاء عطیہ کردیئے، شہری کے اس جذبے سے 5 افراد کو نئی زندگی مل گئی۔
بتایا گیا ہے کہ مردان کے علاقے رستم بازار کا رہائشی نورداد اپنے گھرکے قریب آٹاچکی چلاتا ہے جس سے ان کا گزر بسر ہوتا ہے، 31 مئی کو ایک گاڑی نے اس کے بیٹے اور نویں جماعت کے طالب علم 14 سالہ جواد خان کو سکول جاتے وقت ٹکر ماردی جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا، شہری نے بیٹے کو فوری ہسپتال منتقل کیا اور اس کی جان بچانے کے لیے کئی ہسپتالوں کے چکر لگائے، تاہم جواد کے زندہ بچنے کی کوئی امید باقی نہ رہی اور ڈاکٹروں نے اسے وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا۔(جاری ہے)
معلوم ہوا ہے کہ بیٹے کے زندہ بچنے کی تمام امیدیں ختم ہونے پر جواد کے باپ نے ضرورت مند مریضوں کا خیال کرتے ہوئے اس کے اعضا ء عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا، اس سلسلے میں تمام تر قانونی کارروائی مکمل کی گئی جس کے بعد شہری نے اپنے بیٹے کی دونوں آنکھیں، جگر اور گردے عطیہ کردیئے جس سے 5 اجنبی انسانوں کو نئی عطا ہوئی۔ بتایا جارہا ہے کہ 7 جون کو جواد کی تدفین کردی گئی تاہم مرحوم کے دیگر گھر والے اس کے اعضاء عطیہ کیے جانے پر مطمئن ہیں جب کہ محلہ داروں اور پڑوسیوں نے بھی جواد کے اہل خانہ کے اس فیصلے کو سراہا اور اس کو قابلِ فخر اقدام قرار دیا، جواد کے دادا نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میرا پوتا تو روڈ حادثے میں اپنی جان کھوبیٹھا لیکن دیگر شہریوں کو اس سے محفوظ رکھنے کے لیے رستم میں بائی پاس روڈ بنایا جائے جس سے حادثات سے بچاؤ ممکن ہوگا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے اعضاء عطیہ عطیہ کردیئے جواد کے بیٹے کے نے بیٹے کو نئی
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔