UrduPoint:
2026-06-03@00:37:12 GMT
شہری نے بیٹے کے اعضاء عطیہ کردیئے، 5 افراد کو نئی زندگی مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
مردان ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون 2025ء ) صوبہ خیبرپختونخواہ کے علاقہ مردان میں شہری نے بیٹے کے اعضاء عطیہ کردیئے جن سے 5 افراد کو نئی زندگی مل گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جب حادثے میں زخمی بیٹے کے زندہ بچنے کی امید نہ رہی تو شہری نے اپنی زندگی کا یہ اہم ترین فیصلہ کیا اور اپنے بیٹے کو ہمیشہ دوسروں میں زندہ رکھنے کے لیے اس کے اعضاء عطیہ کردیئے، شہری کے اس جذبے سے 5 افراد کو نئی زندگی مل گئی۔
بتایا گیا ہے کہ مردان کے علاقے رستم بازار کا رہائشی نورداد اپنے گھرکے قریب آٹاچکی چلاتا ہے جس سے ان کا گزر بسر ہوتا ہے، 31 مئی کو ایک گاڑی نے اس کے بیٹے اور نویں جماعت کے طالب علم 14 سالہ جواد خان کو سکول جاتے وقت ٹکر ماردی جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا، شہری نے بیٹے کو فوری ہسپتال منتقل کیا اور اس کی جان بچانے کے لیے کئی ہسپتالوں کے چکر لگائے، تاہم جواد کے زندہ بچنے کی کوئی امید باقی نہ رہی اور ڈاکٹروں نے اسے وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا۔(جاری ہے)
معلوم ہوا ہے کہ بیٹے کے زندہ بچنے کی تمام امیدیں ختم ہونے پر جواد کے باپ نے ضرورت مند مریضوں کا خیال کرتے ہوئے اس کے اعضا ء عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا، اس سلسلے میں تمام تر قانونی کارروائی مکمل کی گئی جس کے بعد شہری نے اپنے بیٹے کی دونوں آنکھیں، جگر اور گردے عطیہ کردیئے جس سے 5 اجنبی انسانوں کو نئی عطا ہوئی۔ بتایا جارہا ہے کہ 7 جون کو جواد کی تدفین کردی گئی تاہم مرحوم کے دیگر گھر والے اس کے اعضاء عطیہ کیے جانے پر مطمئن ہیں جب کہ محلہ داروں اور پڑوسیوں نے بھی جواد کے اہل خانہ کے اس فیصلے کو سراہا اور اس کو قابلِ فخر اقدام قرار دیا، جواد کے دادا نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میرا پوتا تو روڈ حادثے میں اپنی جان کھوبیٹھا لیکن دیگر شہریوں کو اس سے محفوظ رکھنے کے لیے رستم میں بائی پاس روڈ بنایا جائے جس سے حادثات سے بچاؤ ممکن ہوگا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے اعضاء عطیہ عطیہ کردیئے جواد کے بیٹے کے نے بیٹے کو نئی
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔