اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے( امریکی میڈیا ) جھکیں گے نہ ہی ایٹمی تحقیق ختم کرینگے (ایرانی صدر)
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن،تہران ، غزہ(خبر ایجنسیاں ،مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے، حملے کی پیشگی اطلاع امریکا کو کردی ہے، امریکی محکمہ خارجہ نے مشرق وسطیٰ سے سفارتی عملے میں کمی کرنا شروع کردی، ٹرمپ بھی ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے مایوس نظر آتے ہیں جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ وہ نہ کسی دباؤ کے آگے جھکیں گے اور نہ ہی ایٹمی تحقیقات بند کریں گے،مغرب کوکس نے حق دیا کہ وہ ایرانی جوہری پروگرام رول بیک کرنیکامطالبہ کرے، ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ جنگ چھڑی تو تمام امریکی فوجی اڈے نشانے پر ہوں گے۔ایران کی فوج نے دشمن کی نقل و حرکت پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے فوجی مشقیں مقررہ وقت سے پہلے شروع کردی ہیں جبکہ ایرانی وزیر دفاع کے مطابق وزارت دفاع نے 2 ٹن وار ہیڈ سے لیس میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے جبکہ ایران کی فوج نے دشمن کی نقل و حرکت پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے جنگی مشقیں مقررہ وقت سے پہلے شروع کر دی ہیںادھرعالمی جوہری توانائی ایجنسی نے 20 سال میں پہلی بار تہران کو جوہری عدم پھیلاؤ کے وعدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے دیا ہے ،آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز نے ایران کیخلاف قرارداد منظور کرلی ہے اور معاملہ سلامتی کونسل کو بھیجے جانے کا امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے۔ امریکی میڈیا نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے اور اسرائیل نے ایران پر حملے کی پیشگی اطلاع امریکا کو بھی کردی ہے۔ اسرائیلی حکام نے امریکا کو بتایا کہ اسرائیل ایران میں آپریشن کے لیے پوری طرح تیار ہے ، رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے امریکا کو بتایا کہ اسرائیل ایران میں آپریشن کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ایران اسرائیلی حملے کے ردعمل میں ممکنہ طور پر عراق میں موجود امریکی سائٹس پر حملہ کرسکتا ہے جس کے باعث امریکا نے مشرق وسطیٰ میں موجود اپنے کچھ شہریوں کو فوری وہاں سے نکلنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے فوجی خاندانوں کے اہلخانہ کو رضاکارانہ طور پر مشرقی وسطیٰ چھوڑنے کا اختیار دیدیا ہے۔دوسری جانب ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث گزشتہ روز امریکی وزیر دفاع نے مشرق وسطیٰ سے اپنے غیر سفارتی عملے کے رضاکارانہ انخلا کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کی حفاظت اور سلامتی ہماری ترجیح ہے۔ادھر واشنگٹن میں امریکی صدر ٹرمپ نے کینیڈی سینٹرمیں تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نہیں معلوم کہ ایران کو جوہری پروگرام بند کرنے پر راضی کرسکیں گے یا نہیں، مجھے پہلے ایسا لگتا تھا لیکن اب اس بارے میں میرا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، امید کم ہے کہ ایران جوہری معاہدے میں یورینیم کی افزودگی روکنے پرراضی ہو جائے۔ علاوہ ازیں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہیکہ وہ نہ کسی دباؤ کے آگے جھکیں گے اور نہ ہی ایٹمی تحقیقات بند کریں گے۔ ایران کے صوبہ ایلام میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ نہ تو دباؤ کے آگے جھکیں گے اور نہ ہی ایٹمی تحقیقات بند کریں گے، کسی بھی طاقت کو ہمیں سائنسی تحقیقات سے روکنے کا حق حاصل نہیں۔ مسعود پزشکیان نے کہا کہ صنعت، طب اور زراعت وغیرہ کے لیے جوہری توانائی کے حصول کے لیے مغرب کی منظوری کا انتظار نہیں کریں گے، مغرب کوکس نے حق دیا کہ وہ ایرانی جوہری پروگرام رول بیک کرنیکامطالبہ کرے۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر کے فرمان کے مطابق ہم ایٹمی ہتھیار ہرگز نہیں بنائیں گے۔ ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ کوئی تنازع چھڑتا ہے تو وہ خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ ایرانی وزیر دفاع نے کہا کہ امید ہے نوبت وہاں تک نہیں پہنچے گی اور مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے لیکن اگر ایسا نہ ہوا اور ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو دشمن کے نقصانات ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوں گے۔ ایران کی مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیردفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصر زادے نے گزشتہ روز کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزارت دفاع نے گزشتہ ہفتے 2 ٹن وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے جدید میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ انہوں نے کامیاب میزائل تجربے کو ایران کی دفاعی صلاحیتیوں کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے دفاعی امور میں بہت اچھی پیشرفت کی ہے اور ہماری افواج مکمل طور پر جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ ایرانی وزیر دفاع جنرل ناصر زادے نے مزید کہا کہ یہ تجربہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران دفاعی تیاریوں کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔مزید برآں عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے 20 سال میں پہلی بار ایران کو قواعد کی خلاف ورزی کامرتکب قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف قرارداد منظور کرلی، دوسری جانب ایران کی فوج نے دشمن کی نقل و حرکت پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے اپنی فوجی مشقیں مقررہ وقت سے پہلے شروع کر دیں۔ قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے ایران کے خلاف منظور کردہ قرارداد کے حق میں 19 اور مخالفت میں 3 ووٹ آئے جبکہ 11 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کی رپورٹ کے مطابق جوہری نگرانی کے عالمی ادارے نے 20 سال بعد پہلی بار ایران کو جوہری عدم پھیلاؤ کے وعدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز کی منظور کردہ قرارداد میں اس بات کا امکان ہے کہ معاملہ آگے چل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجا جاسکتا ہے۔ یہ قرارداد آئی اے ای اے کی گزشتہ ہفتے کی رپورٹ کے بعد منظور کی گئی ہے، جس میں ایران کی جانب سے عمومی طور پر تعاون کی کمی کا ذکر کیا گیا اور ان مقامات پر خفیہ سرگرمیوں اور غیر ظاہر شدہ جوہری مواد پر تشویش ظاہر کی گئی، جو عرصے سے تفتیش کے دائرے میں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق جوہری توانائی امریکی میڈیا ا ئی اے ای اے نے امریکا کو ایرانی وزیر نہ ہی ایٹمی کی رپورٹ کے ایرانی صدر کہ اسرائیل وزیر دفاع کیا ہے کہ نے کہا کہ کہ ایران ایران کے ایران کی کریں گے دفاع نے کے لیے
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ