data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن،تہران ، غزہ(خبر ایجنسیاں ،مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے، حملے کی پیشگی اطلاع امریکا کو کردی ہے، امریکی محکمہ خارجہ نے مشرق وسطیٰ سے سفارتی عملے میں کمی کرنا شروع کردی، ٹرمپ بھی ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے مایوس نظر آتے ہیں جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ وہ نہ کسی دباؤ کے آگے جھکیں گے اور نہ ہی ایٹمی تحقیقات بند کریں گے،مغرب کوکس نے حق دیا کہ وہ ایرانی جوہری پروگرام رول بیک کرنیکامطالبہ کرے، ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ جنگ چھڑی تو تمام امریکی فوجی اڈے نشانے پر ہوں گے۔ایران کی فوج نے دشمن کی نقل و حرکت پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے فوجی مشقیں مقررہ وقت سے پہلے شروع کردی ہیں جبکہ ایرانی وزیر دفاع کے مطابق وزارت دفاع نے 2 ٹن وار ہیڈ سے لیس میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے جبکہ ایران کی فوج نے دشمن کی نقل و حرکت پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے جنگی مشقیں مقررہ وقت سے پہلے شروع کر دی ہیںادھرعالمی جوہری توانائی ایجنسی نے 20 سال میں پہلی بار تہران کو جوہری عدم پھیلاؤ کے وعدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے دیا ہے ،آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز نے ایران کیخلاف قرارداد منظور کرلی ہے اور معاملہ سلامتی کونسل کو بھیجے جانے کا امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے۔ امریکی میڈیا نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے اور اسرائیل نے ایران پر حملے کی پیشگی اطلاع امریکا کو بھی کردی ہے۔ اسرائیلی حکام نے امریکا کو بتایا کہ اسرائیل ایران میں آپریشن کے لیے پوری طرح تیار ہے ، رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے امریکا کو بتایا کہ اسرائیل ایران میں آپریشن کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ایران اسرائیلی حملے کے ردعمل میں ممکنہ طور پر عراق میں موجود امریکی سائٹس پر حملہ کرسکتا ہے جس کے باعث امریکا نے مشرق وسطیٰ میں موجود اپنے کچھ شہریوں کو فوری وہاں سے نکلنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے فوجی خاندانوں کے اہلخانہ کو رضاکارانہ طور پر مشرقی وسطیٰ چھوڑنے کا اختیار دیدیا ہے۔دوسری جانب ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث گزشتہ روز امریکی وزیر دفاع نے مشرق وسطیٰ سے اپنے غیر سفارتی عملے کے رضاکارانہ انخلا کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کی حفاظت اور سلامتی ہماری ترجیح ہے۔ادھر واشنگٹن میں امریکی صدر ٹرمپ نے کینیڈی سینٹرمیں تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نہیں معلوم کہ ایران کو جوہری پروگرام بند کرنے پر راضی کرسکیں گے یا نہیں، مجھے پہلے ایسا لگتا تھا لیکن اب اس بارے میں میرا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، امید کم ہے کہ ایران جوہری معاہدے میں یورینیم کی افزودگی روکنے پرراضی ہو جائے۔ علاوہ ازیں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہیکہ وہ نہ کسی دباؤ کے آگے جھکیں گے اور نہ ہی ایٹمی تحقیقات بند کریں گے۔ ایران کے صوبہ ایلام میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ نہ تو دباؤ کے آگے جھکیں گے اور نہ ہی ایٹمی تحقیقات بند کریں گے، کسی بھی طاقت کو ہمیں سائنسی تحقیقات سے روکنے کا حق حاصل نہیں۔ مسعود پزشکیان نے کہا کہ صنعت، طب اور زراعت وغیرہ کے لیے جوہری توانائی کے حصول کے لیے مغرب کی منظوری کا انتظار نہیں کریں گے، مغرب کوکس نے حق دیا کہ وہ ایرانی جوہری پروگرام رول بیک کرنیکامطالبہ کرے۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر کے فرمان کے مطابق ہم ایٹمی ہتھیار ہرگز نہیں بنائیں گے۔ ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ کوئی تنازع چھڑتا ہے تو وہ خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ ایرانی وزیر دفاع نے کہا کہ امید ہے نوبت وہاں تک نہیں پہنچے گی اور مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے لیکن اگر ایسا نہ ہوا اور ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو دشمن کے نقصانات ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوں گے۔ ایران کی مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیردفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصر زادے نے گزشتہ روز کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزارت دفاع نے گزشتہ ہفتے 2 ٹن وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے جدید میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ انہوں نے کامیاب میزائل تجربے کو ایران کی دفاعی صلاحیتیوں کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے دفاعی امور میں بہت اچھی پیشرفت کی ہے اور ہماری افواج مکمل طور پر جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ ایرانی وزیر دفاع جنرل ناصر زادے نے مزید کہا کہ یہ تجربہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران دفاعی تیاریوں کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔مزید برآں عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے 20 سال میں پہلی بار ایران کو قواعد کی خلاف ورزی کامرتکب قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف قرارداد منظور کرلی، دوسری جانب ایران کی فوج نے دشمن کی نقل و حرکت پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے اپنی فوجی مشقیں مقررہ وقت سے پہلے شروع کر دیں۔ قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے ایران کے خلاف منظور کردہ قرارداد کے حق میں 19 اور مخالفت میں 3 ووٹ آئے جبکہ 11 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کی رپورٹ کے مطابق جوہری نگرانی کے عالمی ادارے نے 20 سال بعد پہلی بار ایران کو جوہری عدم پھیلاؤ کے وعدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز کی منظور کردہ قرارداد میں اس بات کا امکان ہے کہ معاملہ آگے چل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجا جاسکتا ہے۔ یہ قرارداد آئی اے ای اے کی گزشتہ ہفتے کی رپورٹ کے بعد منظور کی گئی ہے، جس میں ایران کی جانب سے عمومی طور پر تعاون کی کمی کا ذکر کیا گیا اور ان مقامات پر خفیہ سرگرمیوں اور غیر ظاہر شدہ جوہری مواد پر تشویش ظاہر کی گئی، جو عرصے سے تفتیش کے دائرے میں ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق جوہری توانائی امریکی میڈیا ا ئی اے ای اے نے امریکا کو ایرانی وزیر نہ ہی ایٹمی کی رپورٹ کے ایرانی صدر کہ اسرائیل وزیر دفاع کیا ہے کہ نے کہا کہ کہ ایران ایران کے ایران کی کریں گے دفاع نے کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل