ایران کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
ایران کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے آج اجلاس طلب کر لیا۔
اس حوالے سے ایرانی سفارت کار نے بتایا کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران کی درخواست پر یو این سیکیورٹی کونسل کا اجلاس آج طلب کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خط روانہ کیا تھا۔ خط کے مطابق ایران نے کہا کہ اسرائیل کے غیر قانونی اور بزدلانہ اقدامات کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
دریں اثناء انقرہ سے ترک حکام کے مطابق ترکیہ کی ترکش ایئر لائنز نے پیر تک ایران، عراق، شام اور اردن کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
واضح رہے کہ آج اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، اسرائیل نے ایران میں درجنوں مقامات پر فضائی حملے کیے جن میں فوجی قیادت کی رہائش گاہوں اور عسکری و جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی حملوں میں 3 اعلیٰ ترین عسکری حکام اور 6 سائنسدان شہید ہو گئے۔
ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران میں 78 افراد جاں بحق اور 329 زخمی ہوئے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسرائیل سخت سزا کا انتظار کرے، صہیونی ریاست نے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا کر اپنی ظالمانہ فطرت کو پہلے سے زیادہ بے نقاب کر دیا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔