data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل کو لگام نہ دی گئی تو امن عالم خطرے میں پڑ جائے گا، اسرائیل کی کھلی جارحیت عالمی اداروں کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملہ دراصل اس کے ناپاک ارادوں اور صہیونی عزائم کی عکاسی کرتا ہے، اسرائیل اب کھلم کھلا دہشت گردی پر اُتر آیا ہے اور اقوام متحدہ یا جنرل اسمبلی اس کے لیے بے معنی ہوچکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا وجود انسانی خون سے رنگین ہو چکا ہے، اور صہیونیت کا دامن معصوم انسانوں کی لاشوں سے بھرا ہوا ہے، مولانا نے امت مسلمہ سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین صورتحال میں صرف بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ متحد ہو کر اسرائیلی جارحیت کا عملی اور مؤثر جواب دے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ “مسلم حکمرانوں کو مصلحتیں اور وقتی مفادات بالائے طاق رکھ کر ایک مؤقف اپنانا ہوگا، اگر آج خاموشی اختیار کی گئی تو کل کسی اور مسلم ملک کو اسی طرح نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے ایران کے عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پوری امت مسلمہ کو برادر ملک ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلامی دنیا کو مشترکہ حکمت عملی اپناتے ہوئے صہیونیت کا راستہ روکنا ہوگا، ورنہ یہ آگ پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

انہوں نے عالمی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف فوری کارروائی کرے اور اس کی جارحیت کو روکے کیونکہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو عالمی امن کا خواب مٹی میں مل جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمن انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی