ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد وہاں موجود ہزاروں پاکستانی زائرین کے اہل خانہ شدید فکرمندی کا شکار ہیں۔ وزارت خارجہ کے سینئر حکام کے مطابق اس وقت ایران میں تقریباً پانچ ہزار پاکستانی زائرین موجود ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتی مشنز ان زائرین کو تمام ضروری مدد فراہم کریں گے اور ان کی محفوظ وطن واپسی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

وزارت خارجہ کے مطابق ایران جانے والے زائرین کی تعداد وقتاً فوقتاً بدلتی رہتی ہے اور اکثر زائرین سفارتی مشنز سے رجوع نہیں کرتے، جس کے باعث ان کی مکمل نگرانی ایک چیلنج بن چکی ہے۔ تاہم حکومت پاکستان ایران میں کشیدہ حالات کے باوجود اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے متحرک ہے۔

ادھر ایران میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے سعودی وزارت حج کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ ایرانی حاجیوں کو مکمل سہولیات فراہم کی جائیں اور وطن واپسی کے حالات سازگار ہونے تک ان کا مکمل خیال رکھا جائے۔

شاہ سلمان کے اس اعلان کو خطے میں انسان دوستی کے جذبے کے تحت ایک مثبت پیغام قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان میں بھی شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے سفارتی سطح پر پیش رفت جاری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران میں حالات مزید خراب ہوئے تو پاکستانی زائرین کی واپسی ایک بڑا انسانی و سفارتی چیلنج بن سکتی ہے۔ وزارت خارجہ نے زائرین سے اپیل کی ہے کہ وہ ایران میں قیام کے دوران قریبی پاکستانی سفارت خانے یا قونصلیٹ سے مسلسل رابطے میں رہیں تاکہ ہنگامی صورتِ حال میں فوری مدد فراہم کی جا سکے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستانی زائرین ایران میں

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار