ہائیکورٹ کا تاریخ ساز فیصلہ، گریڈ 20 اور 21 کے افسران سے گاڑیاں واپس لینے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے لاہور ہائیکورٹ کی 150 سالہ تاریخ میں پہلی بار سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی کا تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے عدالتی نظام میں مالیاتی نظم و ضبط کی نئی مثال قائم کر دی۔
نجی ٹی وی دنیانیوزکے مطابق اس انقلابی فیصلے کے تحت گریڈ 20 اور 21 کے افسران سے سرکاری گاڑیاں واپس لے لی جائیں گی اور ان کی جگہ انہیں پٹرول اور مرمت کے لیے ماہانہ فکس الاؤنس دیا جائے گا، اس مقصد کے لیے باقاعدہ مونوٹائزیشن پالیسی کا اجرا کر دیا گیا ہے جس کا نوٹیفکیشن چیف جسٹس عالیہ نیلم کی منظوری کے بعد جاری کیا گیا۔
پالیسی کے مطابق گریڈ 20 کے افسران کو ماہانہ 65960 روپے، گریڈ 21 کے افسران کو ماہانہ 77430 روپے پٹرول اور گاڑیوں کی مرمت کے مد میں دیئے جائیں گے جبکہ گریڈ 19 کے افسران کے لیے الاؤنس سے متعلق فیصلہ فنانس ڈیپارٹمنٹ کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس اقدام سے ہر ماہ لاکھوں روپے کی بچت ممکن ہوگی جو پہلے سرکاری گاڑیوں کے ایندھن اور مرمت پر خرچ ہو رہے تھے۔
مزید برآں پانچ سال تک خدمات انجام دینے والے نائب قاصد کو موٹر سائیکل اور 50 لٹر پٹرول فراہم کرنے کی پالیسی پر بھی نظر ثانی کا امکان ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نہ صرف سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے کوشاں ہیں بلکہ انتظامی اصلاحات کے ذریعے عدالتی نظام میں شفافیت اور کفایت شعاری کو بھی فروغ دے رہی ہیں۔
وکلا برادری نے بھی چیف جسٹس کے اس اقدام کو سراہا ہے، سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ چوہدری نصیر کمبوہ کا کہنا تھا کہ یہ قدم قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کے ساتھ ساتھ انصاف کی فوری فراہمی کی طرف عملی پیش رفت ہے۔
سابق صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون نے اس فیصلے کو ملکی معاشی حالات کے تناظر میں بہترین انتظامی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیگر اداروں کو بھی اس سے سبق لینا چاہیے۔
پاکستان کو FATF میں سفارتی فتح کیسے ملی ،عالمی برادری نےبھارتی پراپیگنڈےپر کیوں توجہ نہیں دی۔۔۔؟اہم تفصیلات جانیے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کے افسران چیف جسٹس کے لیے
پڑھیں:
بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس(Bluetooth) کا نام “بم” ظاہر ہونے کے باعث امریکی ایئر لائن کی بین الاقوامی پرواز کو دورانِ سفر واپس موڑ کر ہنگامی لینڈنگ کرانا پڑی۔
ایئر لائن ذرائع کے مطابق یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پرواز یو اے 236 نے 30 مئی کی شام نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے جزیرے پالما ڈی میلورکا کے لیے روانگی اختیار کی تھی۔ پرواز معمول کے مطابق اپنے سفر پر گامزن تھی اور تقریباً دو گھنٹے بعد بحر اوقیانوس کے اوپر پرواز کر رہی تھی۔
اسی دوران ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس کا نام “بم” کے طور پر ظاہر ہوا، جس کے بعد کیبن میں موجود بعض مسافروں اور عملے میں تشویش پھیل گئی۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر پائلٹ کو دی گئی جس نے حفاظتی ضوابط اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پرواز کو واپس موڑنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ سیکیورٹی خطرے کے پیش نظر طیارے نے نیوارک واپس جانے کا رخ کیا اور تقریباً پونے چار گھنٹے بعد ہنگامی بنیادوں پر بحفاظت لینڈنگ کی۔
مزیدپڑھیں:دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
لینڈنگ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی حکام نے طیارے کا تفصیلی معائنہ کیا جبکہ مشتبہ ڈیوائس اور اس کے مالک کے بارے میں تحقیقات بھی کی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کا دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، تاہم حکام نے واقعے کو فضائی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی سنجیدگی سے لیا۔
ہوائی سفر کے دوران بم یا دیگر خطرناک الفاظ کا استعمال، خواہ مذاق یا غیر سنجیدگی کے طور پر ہی کیوں نہ کیا جائے، سخت سیکیورٹی ردعمل کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں پروازوں میں تاخیر، ہنگامی لینڈنگ اور قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔