ایف بی آر کا کارگو نگرانی کے لیے نیا ٹریکنگ سسٹم متعارف
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
کلیم اختر: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کارگو کی مؤثر نگرانی کے لیے نیا ٹریکنگ سسٹم متعارف کرا دیا ہے جس کا مقصد ٹرانسپورٹ اور تجارت میں شفافیت لانا اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق نئے نظام کے تحت "ای بلٹی" کو سیلز ٹیکس قانون کا حصہ بنایا جا رہا ہے جس کے ذریعے مال برداری کی ہر نقل و حرکت کو ٹریک کیا جائے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف جعلی بلنگ کی روک تھام ممکن ہوگی بلکہ ٹیکس چوری پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔
تہران: رہائشی کمپلیکس پر اسرائیلی حملے میں شہداء کی تعداد 60 ہوگئی,20 بچے بھی شامل
ایف بی آر نے آن لائن خرید و فروخت (ای کامرس) پر سیلز ٹیکس کی نگرانی بھی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق، ای کامرس ٹرانزیکشنز پر 2 فیصد ٹیکس لاگو کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کورئیر کمپنیوں کو بھی ٹیکس کی وصولی کا پابند بنانے کے لیے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے تاکہ آن لائن خرید و فروخت میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ایف بی آر
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔