عید الاضحی غریب مزدوروں کے لیے خوشیوں کی نوید
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین اس قدر مضبوط و مربوط ہیں کہ کبھی کبھی انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ انسان کی غْربت کا مداوا کرتا ہے جیسے سسکتے بلکتے بچے کو ایک ماں اپنے سینے سے لگا لیتی ہے اور اسے بہت پیار کرتی ہے اس کی ضرورتوں کو فی الفور پورا کرتی ہے اسے ہر تکلیف سے نجات دلانے کے لیے جْٹ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے اور بے شمار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے تمام انسانوں کے لیے دین کو مکمل کیا اور دینِ اسلام کو تمام انسانیت کے لیے پسند فرمایا۔ پھر انسانوں اور جنات کو پابند کیا کہ تمہیں پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ تم میری عبادت کرو۔ پھر اسلامی عبادات کی دو اقسام بھی رکھیں۔ ایک انفرادی اور دوسری اجتماعی۔ اسلامی معاشرے کی اعلیٰ ترین تشکیل کے لیے انسان کو فرائض و سنتوں کی صورت میں انفرادی و اجتماعی عبادات کرنے کا حکم دیا۔ اجتماعی عبادات میں سے ایک فرض عبادت حج ہے جس میں ایک عمل سنتِ ابراہیمی یعنی قربانی کی تکمیل ہے۔ جو کہ عید الاضحی کے تین دنوں میں پورے عالم اسلام میں بڑے جوش و خروش سے ہر سال منائی جاتی ہے۔ عید الاضحی کے ایام غریب مزدوروں کے لیے خالصتاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے اکرام کے دنوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ جس میں بازاروں و چوراہوں میں بوجھ اْٹھاتے دھکّے کھاتے پراگندہ حال مزدور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے کیے گئے اکرام کا شکر بجا لاتے ہیں۔ سارا سال جو مزدور دو وقت کی روٹی کے لیے در در کی خاک چھان رہا ہوتا ہے اسے پیٹ بھر گوشت کھانے کو باآسانی میسر آجاتا ہے۔ ذی الحج کا چاند غریب مزدوروں کے لیے خوشیوں کی نوید سناتا ہوا نکلتا ہے اور مزدوروں کے لیے عام دنوں سے کہیں زیادہ حلال روزی کمانے کے مواقع اللہ تعالیٰ فراہم کردیتا ہے۔ جانوروں کے بیوپاریوں کو اپنا لائیو اسٹاک بیچنے کے لیے مزدوروں کی ایک بہت بڑی تعداد کی ضرورت پڑتی ہے۔ دور افتادہ مقامات کے فارم سے جانوروں کو صحیح سلامت ٹرکوں میں چڑھانے اور مویشی منڈیوں تک پہنچانے اور انہیں بِنا خراش ٹرکوں سے اْتارنے کا کام مزدوروں کے ذریعے پورا ہوتا ہے۔ پھر چارے کی کھیتوں سے لے کر مویشی منڈیوں اور شہر کے مختلف چھوٹے بڑے چارے کے بیوپاریوں تک سپلائی، چارے کی کٹائی اور مویشیوں کو ایک مخصوص ترتیب کے ساتھ منڈی میں چارہ کھلانا اس بات کی علامت ہے کہ مزدوروں کے بغیر یہ کام ممکن نہیں۔ پھر بعض جگہ کچھ سمجھدار کیٹل فارم والے اس بات کا بھی خیال رکھتے ہیں کہ ان کے ناز و نعم سے پالے ہوئے مویشیوں کی خدمت اور ان کی قربانی سے پہلے تک کی دیکھ بھال کرنے کے لیے اپنے بہترین تربیت یافتہ مزدور مویشیوں کے ساتھ بھیجتے ہیں۔ پھر قربانی کے دن قصائی کے ساتھ معاونین کے طور پر بھی مزدوروں کا کام نکلتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ و پرائیوٹ آلائشیں اٹھانے والے مزدور بھی دن رات ایک کر کے علاقوں سے گندگی کی صفائی کرتے ہیں اور کوئی مزدور ایسا نہیں بچتا پورے اسلامی معاشرے میں جس نے پیٹ بھر گوشت نہ کھایا ہو چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مزدوروں کے لیے عید الاضحی کا تہوار ایک بہت بڑی نعمت بنایا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے اپنے محلے اور علاقوں میں غریب مزدوروں کے گھروں پر زیادہ سے زیادہ گوشت فراہم کریں تاکہ قربانی کی اصل روح قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی قربانی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غریب مزدوروں کے مزدوروں کے لیے اللہ تعالی عید الاضحی کے ساتھ ہے اور
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔