بہت سے ممالک کی فضائی حدود بند، عالمی ایئرلائنز نے پاکستانی فضائی حدود کا رخ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے میں کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، جس کے بعد دنیا بھر کی بڑی ایئرلائنز نے پاکستان کی فضائی حدود کو متبادل راستے کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران، عراق، شام، اردن اور اسرائیل کی فضائی حدود مکمل طور پر بند ہیں، جس کے باعث مختلف بین الاقوامی ایئرلائنز اپنی پروازوں کو پاکستان، افغانستان، ترکمانستان، آذربائیجان کے راستے ترکی کی جانب موڑ رہی ہیں۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق پاکستانی فضائی حدود کی اس غیر معمولی سرگرمی سے فلائٹ ٹریکنگ سسٹمز پر کئی بین الاقوامی پروازوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے، جو مشرق وسطیٰ کی کشیدہ فضا سے بچنے کے لیے متبادل راستوں کا سہارا لے رہی ہیں۔
ایمریٹس ایئرلائن نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ عمان (اردن) اور بیروت (لبنان) کے لیے پروازیں اتوار 22 جون تک معطل رہیں گی، جبکہ تہران (ایران) اور بصرہ و بغداد (عراق) کے لیے پروازوں کی معطلی کو 30 جون تک بڑھا دیا گیا ہے۔
دوسری جانب فلائی دبئی نے بھی اپنی کئی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ ایئرلائن نے ایران، عراق، اسرائیل، اردن، لبنان اور شام کے لیے 15 اور 16 جون کی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں، اور موجودہ صورتحال کے تناظر میں مزید تاخیر یا منسوخی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو پاکستان کی فضائی حدود کا استعمال مزید بڑھ سکتا ہے، جس سے ملک کو فضائی راستوں سے متعلق فیسوں کی مد میں مالی فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی فضائی حدود کے لیے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔