ٹیکس فراڈ کرنے والے تاجروں کو گرفتار کرنے کی تجویز پر وزیراعظم کا نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (صباح نیوز/ اے پی پی) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ٹیکس نادہندہ گان کی گرفتاری کی خبروں کافوری نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والوں کو ہراساں کرنا ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا،کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کی عزت اور توقیر ہمارے سر آنکھوں پر ہے اور ان کو بلا جواز ہراساں کرنا نا قابل قبول ہے جبکہ انہوں نے اس معاملے پر ایک خصوصی کمیٹی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ پیر کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔وزیراعظم نے میڈیا میں رپورٹ ہونے والے ٹیکس نادہندہ گان کی گرفتاری کے معاملے پر فوری نوٹس لیا۔وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ سیلز ٹیکس نادہندہ گان کی گرفتاری کا اختیار 1990 کی دہائی سے قانون کا حصہ ہے تاہم اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے مزید مربوط بنانے کے لیے متعلقہ شقوں میں ترامیم کی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم نے تمام معاملہ جانچنے کے بعد انتہائی سختی سے ہدایت کی کہ اس قسم کی کسی بھی ترمیم کو کاروباری برادری یا ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کے لیے ہرگز استعمال نہیں کیا جائے گا۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گرفتاری کے حوالے سے ایکسٹرنل ریویو اور چیک اینڈ بیلنس کا موثر نظام وضع کیا جائے، ان قوانین کے غلط استعمال سے تحفظ سے متعلق شقیں فائنانس ایکٹ کا حصہ بنائی جائیں۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اس معاملے پر پارلیمان میں موجود تمام اتحادی جماعتوں سے مشاورت یقینی بنائی جائے۔اجلاس میں وفاقی وزرا برائے دفاع، قانون، تجارت، اقتصادی امور، اطلاعات و نشریات، وزیر مملکت برائے ریلویز، چیئرمین ایف بی آر، معاشی امور کے ماہرین اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔ وزیرِ اعظم نے آئی ٹی ایکوسسٹم کو بہتر بنانے سے متعلق اقدامات جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی‘آئی ٹی شعبے سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریفنے کہا کہ تربیتی نظام کیلئے کنسلٹینسی کے حوالے سے واضح ٹرمز آف ریفرینسز ٹی او آرز بنائے جائیں۔وزیرِاعظم نے کہا کہ نظام کی تشکیل اور اجراء کیلئے مدت کا تعین کیا جائے، اور جلد اس کی تکمیل یقینی بنائی جائے۔ علاوہ ازیںوزیر اعظم کی یو اے ای کے نائب وزیر عبداللہ نصر کی سربراہی میں وفد سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے، انہوںنے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے جدید مینجمنٹ کے نظام سے اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کر دیا ہے، وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف سے نائب وزیر برائے کیبنٹ افیئرز فار کمپی ٹیٹونس اور نالج ایکسچینج عبداللہ نصر لوتاہ کی سربراہی میں متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔وفد میں پاکستان میں عرب امارات کے سفیر حماد عبید الزابی اور گورنمنٹ نالج ایکسچینج آفس کے عبداللہ البلوکی اور ابراہیم العلی بھی شامل تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عرب امارات کیا جائے ہدایت کی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔