فضیلہ قاضی نے شادی شدہ جوڑوں کو اہم مشورہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
پاکستان شوبز کی سینئر اداکارہ فضیلہ قاضی نے شادی کو کامیاب بنانے کیلئے نوجوان شادی شدہ جوڑوں کو اہم مشورہ دے دیا۔
فضیلہ قاضی حال ہی میں ایک مارننگ شو میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے مختلف موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار کیا اور ساتھ ہی شادی شدہ نوجوان جوڑوں کو بھی رشتہ مضبوط بنانے اور شادی کا کامیاب بنانے کیلئے اہم مشورہ دیا۔
اداکارہ نے کہا کہ شادی ایک ایسا رشتہ ہے جس میں دو لوگ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور الگ الگ بیک گراؤنڈ سے ہوتے ہیں اس لئے میاں بیوی کو ایک دوسرے کو سمجھنے کیلئے اسپیس دینا ضروری ہے۔
فضیلہ قاضی نے کہا کہ اگر آپ اپنی شادی شدہ زندگی کو خوش اسلوبی اور پرسکون انداز میں گزارنا چاہتے ہیں تو اس رشتے میں لچک ہونا بہت ضروری ہے جبکہ ضد نہیں ہونی چاہییے۔
اداکارہ کے شوہر قیصر خان زمانی نے بھی اہلیہ کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا گھر بھی ملک کی طرح معاشی استحکام پر چلتا ہے مرد کو چاہیئے وہ معاشی طور پر مضبوط ہو تاکہ گھر اچھی طرح چلے اور مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فضیلہ قاضی
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت