بھارت اور افغانستان سے سوشل اکاؤنٹس کا پاک-ایران تعلقات کے خلاف پروپیگنڈا بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
بھارت اور افغانستان سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات خراب کرنے کے لیے پروپیگنڈا مہم بے نقاب ہوگئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈیلی میل کا مسلم دنیا کے خلاف مغربی عوام میں پاکستان کو ایسے پیش کیا جا رہا ہے پاکستان ایران کو اس کے جوہری ہتھیاروں سے محروم کرنا چاہتا ہے اور اس پروپیگنڈے کو بھارت اور افغانستان سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پھیلا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور ایران کے تعلقات کو خراب کرنے کے لیے جھوٹے بیانیے پھیلائے جا رہے ہیں، جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس یہ جھوٹ پھیلا رہے ہیں کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔
مذکورہ اکاؤنٹس کے ذریعے ایک اور جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے کہ پاکستان ایران کو اسرائیل کی طرح ایٹمی ہتھیاروں سے غیر مسلح کرنا چاہتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ایران کے ایٹمی ہتھیار اس کے لیے کوئی خطرہ ہیں۔
یہ جھوٹ صرف ایران اور پاکستان کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے کے لیے پھیلایا جا رہا ہے اور جعلی اکاؤنٹس خاص طور پر افغانستان اور بھارت سے اس پروپیگنڈے کو منظم طریقے سے بڑھاوا دے رہے ہیں۔
اسی طرح مغربی میڈیا، جیسے ڈیلی میل، نے پاکستان پر اسرائیل پر ایٹمی حملہ کرنے کا جھوٹا الزام لگایا ہے، یہ جھوٹ پاکستان کو ایک غیر ذمہ دار ایٹمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہے۔
بے بنیاد پروپیگنڈے میں جھوٹا تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ خفیہ رابطے میں ہے جو سراسر غلط ہے اور پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت کی ہے اور اسرائیلی جارحیت کی مخالفت کی ہے۔
ایران اور پاکستان کے تعلقات مضبوط اور دوستانہ ہیں اور باہمی تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے، دونوں ممالک نے سرحدی سیکیورٹی، تجارت اور انسداد دہشت گردی میں تعاون پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان اور ایران کی سرحد کھلی ہے اور تجارتی اور سفری روابط معمول کے مطابق جاری ہیں، یہ جھوٹے بیانیے مسلم دنیا میں اتحاد کو توڑنے اور شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
اسی طرح بتایا گیا کہ نفسیاتی جنگ کا مقابلہ صرف سچائی پھیلانے اور مسلم اتحاد کو مضبوط رکھنے سے ممکن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہ پاکستان جا رہا ہے رہے ہیں یہ جھوٹ کے لیے ہے اور
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔