کینیڈین وزیراعظم بتائیں، مودی سے ہردیپ سنگھ نجر کے قتل پر بات ہوئی؟ سکھ فار جسٹس
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
خالصتان نواز تنظیم ’سکھ فار جسٹس‘ کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واضح طور پر بتائیں کہ آیا انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے کینیڈین شہری اور خالصتان ریفرنڈم کے کوآرڈینیٹر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا معاملہ اٹھایا تھا یا نہیں۔
یہ مطالبہ اس موقع پر سامنے آیا ہے جب 18 جون کو ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کو 2 سال مکمل ہو گئے۔ واضح رہے کہ نجر کو سری، برٹش کولمبیا میں دن دیہاڑے قتل کیا گیا تھا۔
سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اور کینیڈین پولیس نے نجر کے قتل کا الزام بھارتی خفیہ ایجنسیوں پر عائد کیا تھا، جس پر بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
سرکاری اعلامیے میں نجر کے قتل کا کوئی ذکر نہیںکارنی اور مودی کے درمیان 17 جون کو دو طرفہ ملاقات کے بعد جاری کردہ سرکاری اعلامیے میں صرف دونوں ممالک کے ہائی کمشنرز کی تقرری کا ذکر کیا گیا، لیکن نجر کے قتل یا بھارت کی مبینہ مداخلت پر کوئی بات نہیں کی گئی۔
View this post on Instagram
A post shared by Sikhs For Justice (@sikhsforjustice)
’سفارتی تعلقات انصاف پر قربان نہیں ہو سکتے‘سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا ہے کہ خالصتان نواز کینیڈین شہری، جن کی جانیں اور حقوق بھارتی ریاستی دھمکیوں کی زد میں ہیں، یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ کیا وزیراعظم کارنی نے بھارتی وزیراعظم سے نجر کے قتل میں ملوث بھارتی ایجنٹوں کا سوال اٹھایا یا نہیں؟
یہ بھی پڑھیے خالصتان تحریک: ہردیپ سنگھ نجر کے قتل سے 2 ماہ پہلے بھارت نے کیا خفیہ حکم جاری کیا تھا؟
ان کا کہنا ہے کہ نجر کے قتل کا انصاف سفارتی یا تجارتی مفادات پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔
بھارتی سفیر کی واپسی ’آسان سفر‘ نہیں ہوگیسکھ فار جسٹس نے واضح طور پر کہا ہے کہ کینیڈا اور بھارت کے درمیان سفارتی بحالی کے باوجود بھارت کے ہائی کمشنر کا کینیڈا میں کام کرنا ’آسان سفر‘ نہیں ہوگا بالخصوص جب تک ہردیپ سنگھ نجر کے قتل پر شفاف تحقیقات اور جوابدہی نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیے بھارت خالصتان تحریک کے رہنما ہردیپ سنگھ نجار سے متعلق دستاویزی فلم سے خوفزدہ
’کینیڈا بھارتی حکومت سے معمول کے سفارتی تعلقات اس وقت تک نہیں رکھ سکتا جب تک ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا جائے۔ اگر یہ معاملہ نظر انداز کیا گیا تو خالصتان حامی سکھ قانونی اور سیاسی مزاحمت جاری رکھیں گے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سکھ فار جسٹس کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی گرپتونت سنگھ پنوں ہردیپ سنگھ نجر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سکھ فار جسٹس کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی گرپتونت سنگھ پنوں ہردیپ سنگھ نجر نجر کے قتل کا سکھ فار جسٹس کیا گیا
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔