فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ٹرمپ سے آج ملاقات طے
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
ڈونلڈ ٹرمپ اور عاصم منیر کے درمیان ملاقات بدھ کو وائٹ ہاؤس کے کابینہ روم میں طے ہے ملاقات دوپہر کے کھانے پر بدھ کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے ہو گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کے فلیڈ مارشل عاصم منیر امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں ان کی آج (بروز بدھ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دوپہر کے کھانے پر ملاقات طے ہے۔
امریکی صدر کے روزمرہ عوامی شیڈول کے مطابق یہ ملاقات دوپہر کے کھانے پر بدھ کو مقامی وقت کے مطابق ایک بجے (پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے) وائٹ ہاؤس کے کابینہ روم میں طے ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ امریکہ کے دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ سے بھی ملاقات کریں گے۔
حالیہ ہفتوں میں صدر ٹرمپ کی زبان سے متعدد مرتبہ پاکستان اور انڈیا کا ذکر ساتھ ساتھ سنا گیا اور اس کی وجہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان رواں برس چھ سے 10 مئی کے دوران چار روزہ جنگ کے بعد سیز فائر پر اتفاق تھا۔
لڑائی کے چوتھے روز صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ امریکہ کی ثالثی میں انڈیا اور پاکستان فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے جوہری ہتھیار رکھنے والے والے جنوبی ایشیا کے دو حریف ممالک، پاکستان اور انڈیا، کے درمیان اس کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا۔
فلیڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کے درمیان بدھ کو طے شدہ یہ پہلی ملاقات ہو گی۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے، جب پاکستان کا پڑوسی ملک اس وقت اسرائیل کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔
اسرائیل کی جانب سے 13 جون کو ایران کی متعدد فوجی اور جوہری تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں ایران کی عسکری قیادت، جوہری سائنس دانوں اور عام شہریوں کی موت کے بعد آپریشن ’وعدہ صادق سوم‘ کے نام سے تہران کے جوابی حملے جاری ہیں۔
پاکستان اور انڈیا میں سیزفائر کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بیانات میں یہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے دونوں روایتی حریفوں میں جوہری تصادم کو روکنے اور سیز فائر کے لیے تجارت کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔
اسی سلسلے میں اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان رواں ماہ باہمی ٹیرف (محصولات) پر باضابطہ مذاکرات بھی ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پاکستان اور انڈیا کے درمیان کے مطابق بدھ کو
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔