data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کراچی کے شہریوں پر ڈالے گئے 50 ارب روپے سے زائد کے اضافی مالی بوجھ کے خلاف نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں باقاعدہ ریویو موشن دائر کردیا ہے، یہ فیصلہ نیپرا کی جانب سے 5 جون 2025 کو جاری کیا گیا تھا جس میں کے الیکٹرک کے متنازعہ رائٹ آف کلیمز کو منظور کیا گیا تھا۔

منعم ظفر خان نے دائر کردہ درخواست میں نیپرا کے فیصلے کو کراچی کے عوام کے ساتھ کھلی زیادتی اور مالی استحصال قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے، کے الیکٹرک کے کلیمز میں بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی کے نقصانات شامل کیے گئے تھے لیکن ان کلیمز کی نہ تو آزادانہ تصدیق ہوئی اور نہ ہی کسی قسم کا فرانزک آڈٹ کیا گیا۔

جماعت اسلامی کی جانب سے نیپرا سماعت کے دوران ناظم آباد آئی بی سی سے جاری کردہ 19 جعلی بلوں کے دستاویزی ثبوت پیش کیے گئے جن کی مالیت 71 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد تھی، لیکن ان ناقابلِ تردید شواہد کے باوجود نیپرا نے نہ صرف ان کو نظر انداز کیا بلکہ اس بوجھ کو باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے دیگر صارفین پر منتقل کر دیا۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ اگر صرف ایک آئی بی سی میں جعلی کلیمز کا یہ عالم ہے تو پورے شہر میں کے الیکٹرک کے کلیمز کی صداقت پر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے؟

انہوں نے 76 ارب روپے کے مجموعی کلیمز کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کراچی کے شہریوں کے ساتھ معاشی ظلم کے مترادف ہے۔

درخواست میں نیپرا سے درج ذیل اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے،5 جون 2025 کا فیصلہ فوری طور پر معطل کیا جائے،تمام کلیمز پر آزاد فرانزک آڈٹ کروایا جائے، بل ادا کرنے والے صارفین کو اضافی مالی بوجھ سے بچایا جائے،کے الیکٹرک کے خلاف باقاعدہ ریگولیٹری انکوائری کی جائے،تمام اسٹیک ہولڈرز کی موجودگی میں دوبارہ شفاف سماعت کی جائے۔

منعم ظفر خان نے نشاندہی کی کہ نیپرا کا فیصلہ ٹیرف قواعد 1998 کے سیکشن 23 کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت کلیمز کی منظوری صرف تصدیق شدہ، آڈٹ شدہ اور شفاف ڈیٹا کی بنیاد پر دی جا سکتی ہے، مگر یہاں محض کے الیکٹرک کے یکطرفہ دعووں کو بنیاد بنا کر فیصلہ جاری کر دیا گیا۔

درخواست میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کراچی چیمبر آف کامرس، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن، اوورسیز انویسٹرز چیمبر سمیت درجنوں تجارتی و صنعتی اداروں، سول سوسائٹی اور جماعت اسلامی کی جانب سے دیے گئے تحریری اعتراضات، دلائل اور شواہد کو مکمل طور پر نظرانداز کر کے فیصلہ عجلت میں عید تعطیلات سے ایک روز قبل جاری کیا گیا تاکہ عوامی ردعمل سے بچا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے الیکٹرک کے جماعت اسلامی کیا گیا

پڑھیں:

سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری

کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔

بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس

کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔

حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔

سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ

سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:

گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے

معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔

اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔

دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سی پیک اتھارٹی کی بلٹ پروف گاڑی خریدنے کی منظوری
  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی