6 روزہ جنگ کے دوران پہلی بار ایران میں 3 مسافر بردار طیاروں کی پرواز؛ مسقط پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
ایران اسرائیل کے درمیان جنگ کو 6 روز ہوگئے جس کے دوران پہلی بار تہران کی فضاؤں میں مسافر بردار طیاروں نے پرواز بھری۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران سے 3 ایئر بس طیاروں نے بدھ کی شام پہلی بار اڑان بھری ہے جن کی منزل مسقط تھی۔
ان طیاروں میں دو کا اسٹیٹس ایرانی حکومت کے طور پر ظاہر ہو رہا تھا جب کہ تیسرے طیارے نے معراج ایئر لائن کی پرواز کے طور پر اڑان بھری تھی۔
تینوں پروازیں عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچیں تو قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں کہ شاید ان طیاروں میں ایرانی حکام تھے جو مذکرات کے لیے پہنچے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات مسقط میں ہونا تھے جو اسرائیل کے ساتھ جنگ کے باعث ملتوی کردیئے گئے تھے۔
تاہم ایران نے غیر معمولی طور پر مسافر بردار طیاروں کے مسقط پہنچنے پر اس افواہ کو تقویت دی کہ مذاکرات شروع ہوگئے۔
جس پر ایران نے ایسے ہر دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایران سے کوئی وفد امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے مسقط نہیں پہنچا۔
امریکا اور عمان کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔