Jasarat News:
2026-06-02@22:33:50 GMT

اسٹاک مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ، انڈیکس میں 1400 کی کمی

اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر) پاکستان اسٹاک ایکسچینج کاروباری ہفتے کے تیسرے دن پرافٹ ٹیکنگ کے باعث کاروبار حصص شدید مندی کی لپیٹ میں رہا ،کے ایس ای 100انڈیکس1500پوائنٹس کم ہو گیا۔اورمارکیٹ 1لاکھ21ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد گنوا بیٹھی جبکہ انڈیکس 120,400 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا،مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو 170ارب روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ 69.

57فیصد حصص کی قیمتیں گھٹ گئیں۔ اسرائیل ایران جنگ کے منفی اثرات ،پاکستان کے کرنٹ اکائونٹ میں خسارہ، برآمدات میں کمی اور روپے کی قدر میں مسلسل کمی جیسے عوامل نے بدھ کے روز مارکیٹ کو تنزلی کی جانب دھکیل دیا۔ آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، او ایم سیز، بجلی پیدا کرنے اور ریفائنری کمپنیز میں فروخت کا دبائو دیکھا گیا اور کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100انڈیکس 1505.11 پوائنٹس کی کمی سے 120,465.93 پوائنٹس پر آگیا اسی طرح 406.83پوائنٹس کی کمی سے کے ایس ای 30انڈیکس36506.12پوائنٹس ، کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس877.42پوائنٹس کم ہو کر75339.82پوائنٹس اورکے ایم آئی30انڈیکس 2047.00پوائنٹس کے خسارے سے 177871.47پوائنٹس پر بند ہوا۔مارکیٹ کے سرمائے میں 170 ارب 34 کروڑ 91 لاکھ 97 ہزار 764 روپے کی کمی واقع ہوئی اور مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ 14610 ارب 32 کروڑ 38 لاکھ 52 ہزار 339 روپے رہ گیا۔اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو 21 ارب روپے مالیت کے 70کروڑ73لاکھ ۶۵حصص کے سودے ہوئے جبکہ منگل کو 27ارب روپے مالیت کے 1 ارب 15 کروڑ 20 لاکھ 12 ہزار 654 شیئرز کا کاروبار ہوا تھا۔اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ روز مجموعی طور پر 470کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے 102کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ،327میں کمی اور41کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پوائنٹس کی مارکیٹ میں کے ایس ای کی کمی

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا