ہانگ کانگ ایس اے آر کی معاشی کامیابیاں ایک ملک، دو نظام کے فروغ کی تصدیق ہے ، چین
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
ہانگ کانگ ایس اے آر کی معاشی کامیابیاں ایک ملک، دو نظام کے فروغ کی تصدیق ہے ، چین WhatsAppFacebookTwitter 0 19 June, 2025 سب نیوز
بیجنگ :چینی وزارت خارجہ کی بریفنگ میں سوئٹزرلینڈ کے لوزان بین الاقوامی مینجمنٹ ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی 2025 کی عالمی مسابقت کی سالانہ رپورٹ میں ہانگ کانگ ایس اے آر کی ٹاپ تھری میں واپسی سے متعلق پوچھا گیا۔ترجمان گو جیاکھون نے کہا کہ یہ ہانگ کانگ کی منفرد حیثیت اور خوبیوں اور “ایک ملک، دو نظام” کے فروغ کی تصدیق ہے۔ اس وقت، ہانگ کانگ ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے، اور ترقی کی جانب گامزن ہے،
بین الاقوامی مالیاتی مرکز کی “دلکشی” مزید بڑھتی جا رہی ہے، غیر ملکی کمپنیوں اور افراد کی سرمایہ کاری کی “کشش” میں اضافہ ہو رہا ہے، اور یہ عالمی آزاد معیشتوں اور سب سے زیادہ مسابقتی علاقوں میں سے ایک ہے۔ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج نے 14 بلین ڈالر کے فنڈ ریزنگ حجم کے ساتھ عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کی،
پہلے پانچ مہینوں میں ہانگ کانگ میں غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں 18 فیصد اضافہ ہوا، کئی بڑی بین الاقوامی کمپنیوں نے ہانگ کانگ منتقل ہونے کے لیے رجسٹریشن کی، یہ سب عالمی برادری کی جانب سے ہانگ کانگ پر اعتماد کا مظہر ہے ۔ترجمان نے نشاندہی کی کہ ہانگ کانگ سلامتی قانون کی پانچویں سالگرہ قریب ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ “ایک ملک، دو نظام” کے نظام کی ضمانت کے تحت، ہانگ کانگ کا مستقبل مزید بہتر ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرملک بھر میں 20سے 23جون کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی چینی صدر کا دورہ وسطی ایشیا ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دیتا ہے، چینی وزیر خا رجہ امریکہ پر عوامی اعتماد کی کمی یکطرفہ بالا دستی کے غروب ہوتے سورج کی نشاندہی ہے، عالمی میڈیا آئندہ بجٹ میں نان فائلروں پر جائیداد اور گاڑی کی خریداری پر پابندیاں لگانے کی تجویز کیش لیس اکانومی اور معیشت کی ڈیجیٹائیزیشن کیلئے اعلی سطحی کمیٹی قائم چین وسطی ایشیا روح کی روشنی میں تعاون کا نیا باب کھل گیا ریئر ارتھ میٹلز کی برآمدات پر چین کا اتنظام چین کو ایک ذمہ دار ملک ظاہر کرتا ہے، چینی میڈیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔