data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے جمعرات کو ملینیم مال اور عامر الیکٹرونکس مارکیٹ صدر کا دورہ کیا اور آگ کا شکار ہونے والی دکانوں اور متاثرہ تاجروں سے ملاقات کی ، تاجروں نے شکریہ ادا کیااور کہا کہ منعم ظفر خان پہلے رہنما ہیںجو متاثرین سے ملاقات کے لیے پہنچے ، کسی اور پارٹی کا رہنما اور کوئی حکومتی نمائندہ ابھی تک نہیں آیا ،منعم ظفر خان نے تاجر تنظیموں کے عہدیداران اور متاثرہ دکانداروں سے گفتگو کرتے ہوئے آگ لگنے سے ہونے والے نقصانات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور سندھ حکومت و کے ایم سی سے مطالبہ کیا کہ تمام متاثرہ دکانداروں کو زر ِ تلافی اور معاوضہ ادا کیا جائے تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں ۔ منعم ظفر خان نے قابض میئر اور سندھ حکومت کے کسی بھی نمائندے کی جانب سے داد رسی
کے لیے متاثرہ دکانداروں سے تاحال رابطہ نہ کرنے اور متاثرین کی داد رسی کے لیے نہ آنے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ قابض میئر اور حکومت کا یہ طرزِ عمل حکومتی بے حسی اور اس امر کا اظہار ہے کہ ان کو بڑی تعداد میں متاثر ہونے والے دکانداروں اور تاجروں کے مسائل سے کوئی سرو کار نہیں ہے جبکہ دوسری جانب آگ لگنے پر واقعے کے بعد فائر بریگیڈ کا عملہ بھی ہمیشہ تاخیر سے پہنچتا ہے اور متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت ہی اپنا مال اور سامان بچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ملینیم مال میں 250اور عامر الیکٹرونکس مارکیٹ میں 34میں سے 30دکانیں جل کر خاکستر ہوگئیں ، ملینیم مال میں خواتین دکانداروں نے اپنی جان پر کھیل کر آگ سے اپنا سامان بچایا، اسی طرح عامر مارکیٹ کے دکاندار بھی حکومتی بے حسی اور غفلت کا شکار ہوئے ۔منعم ظفر خان نے کہا کہ صرف دکانیں ہی نہیں جلیں بلکہ ان سے وابستہ سیکڑوں خاندان متاثر ہوئے ہیں اور تاحال کوئی ان کا پُر سانِ حال نہیں ، کراچی پورے ملک کی معیشت چلاتا ہے، کراچی وفاقی بجٹ میں 70فیصد اور صوبے کا 95فیصد بجٹ فراہم کرتا ہے لیکن شہر کی صورتحال یہ ہے کہ کوئی حادثہ رونما ہوجائے تو کوئی حکومتی ادارہ فوری طور پر حرکت میں نہیں آتا اور متاثرین فریاد کرتے رہ جاتے ہیں ۔ اس موقع پر الیکٹرونکس ڈیلر ایسوسی ایشن کے صدر رضوان عرفان ، کوآپریٹو مارکیٹ کے جنرل سیکرٹری اسلم خان ، عامر مارکیٹ کے حبیب پٹیل و دیگر تاجروں نے منعم ظفر خان کو آگ کے حادثے اور نقصانات کے بارے میں بتایا اور کہا کہ30دکانیں جل گئیں لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی نمائندہ نہیں آیا ۔ میئر کراچی بھی تاجروں کے پاس نہیں آئے ، ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ ہمارے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور ہمیں معاوضہ دیا جائے تاکہ ہم اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر سکیں ۔ اس موقع پر سابق رکن سندھ اسمبلی و ڈپٹی سیکرٹری جماعت اسلامی کراچی یونس بارائی ، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ، اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹری کراچی کے صدر محمود حامد ، جنرل سیکرٹری عثمان شریف ، تاجر رہنما وقار غوری ، جہانگیر اور دیگر بھی موجود تھے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: متاثرہ دکانداروں ملینیم مال مارکیٹ کے نہیں ا کہا کہ

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار