سندھ ہائیکورٹ :اویس شاہ کو گورنر ہاؤس کے دفتر میں داخلے کی اجازت
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر /مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ ہائی کورٹ نے قائم مقام گورنر کو گورنر ہاؤس سندھ کے مرکزی دفتر میں داخلے کی اجازت دیدی۔ قائم مقام گورنر سندھ اویس قادر شاہ نے گورنر ہاؤس کی چابیاں ساتھ لے جانے پر کامران ٹیسوری کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی تھی جسے فوری سماعت کے لیے منظور کیا گیا۔ دوران سماعت سندھ ہائی کورٹ نے قائم مقام گورنر کو گورنر ہاؤس سندھ کے مرکزی دفتر میں داخلے کی اجازت دی اور کہا کہ پرنسپل سیکرٹری قائم مقام گورنر کی رسائی کو نہ روکیں۔ اس کے علاوہ عدالت نے 23 جون کو پرنسپل سیکرٹری سے رپورٹ طلب کرتے ہدایت کی کہ عدالتی حکم نامے کی کاپی صدر اور پرنسپل سیکرٹری کو ارسال کی جائے۔ رکن صوبائی اسمبلی محمد فاروق نے قائم مقام گورنر اویس قادر شاہ کو گورنر ہائوس میں اجلاس سے روکنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر ہائوس کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ریاستی ادارہ ہے ،آئین کے مطابق قائم مقام گورنر کو گورنر ہائوس استعمال کرنے کے اختیارات حاصل ہیں ‘ کامران ٹیسوری کی جانب سے بار بار اس قسم کا رویہ قابل مذمت ہے،گورنر سندھ اور اسپیکر اسمبلی دونوں عہدے قابل عزت ہیں۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نثار احمد کھوڑو نے جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق فرحان کی جانب سے اویس قادر شاہ کے معاملے پر ایوان میں توجہ مبذول کرانے پر ان کا شکریہ اداکیا۔ قائم مقام گورنر سندھ سید اویس قادر شاہ نے کہا ہے کہ آئین میں واضح ہے کہ گورنر کی غیر موجودگی میں قائم مقام گورنر کام کرسکتے ہیں لیکن اس وقت گورنر ہاؤس کو ذاتی بیٹھک کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ایسا کرنا آئین کی بالادستی کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ جمعے کو سندھ اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محرم الحرام سے متعلق جمعے کو امن و امان سے متعلق ایک اجلاس گورنر ہاؤس میں رکھا گیا تھا ، جس میں وزیر داخلہ آئی جی سندھ سمیت دیگر نے شریک ہونا تھا لیکن جس جگہ اجلاس رکھا گیا تھا وہ مقفل تھی اور کہا گیا کہ گورنر کامران ٹیسوری تالا لگاکر چابی اپنے ساتھ لے گئے ہیں‘اسی وجہ سے آئینی عدالت میں پٹیشن دائر کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو بھی خط لکھوں گا کہ گورنر ہاؤس کے عملے کو ہٹایا جائے اور جمعے کے واقعے کی تحقیقات کی جائے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ گورنر ہاؤس ہمیشہ عوام کے لیے کھلا ہے‘ اویس قادر شاہ بطور اسپیکر اور ذاتی حیثیت میں قابلِ احترام ہیں۔ ترجمان گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ قائم مقام گورنر سندھ اویس قادر شاہ کو صورتحال سے متعلق غلط فہمی ہوئی، اجلاس میں شرکت کے لیے سیکرٹری داخلہ، آئی جی، ڈی آئی جیز اور دیگر افسران کانفرنس روم میں تھے۔ ترجمان کے مطابق قائم مقام گورنر کے لیے مخصوص دفتر پیشگی طور پر تیار تھا، مرکزی دفتر استعمال کرنا مقصود تھا تو بروقت آگاہ کیا جاتا تو انتظام کر دیا جاتا‘ گورنر سندھ کی پرنسپل سیکرٹری کو 24 گھنٹے میں واقعے کی انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قائم مقام گورنر پرنسپل سیکرٹری کامران ٹیسوری اویس قادر شاہ گورنر ہاو س گورنر سندھ کو گورنر کہ گورنر کے لیے
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔