تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑا ریلیف؟ حکومت نے ٹیکس کی شرح گھٹا دی
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے تنخواہ دار طبقے کو قابلِ ذکر ریلیف دیتے ہوئے انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تجویز منظور کرلی ہے۔ اس فیصلے سے لاکھوں ملازمین کو مالی طور پر ریلیف ملنے کی امید ہے۔
کمیٹی اجلاس کی صدارت چیئرمین سید نوید قمر نے کی، جس میں انکم ٹیکس سے متعلق مالیاتی بل کی شق وار منظوری پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے آمدن والے افراد پر انکم ٹیکس کی شرح موجودہ 2.
مزید پڑھیں: تنخواہ دار طبقے کے لیے خوشخبری: وفاقی بجٹ 26-2025 میں انکم ٹیکس کی شرح کم کر دی گئی
اس کے علاوہ، کمیٹی نے کارپوریٹ سیکٹر پر عائد سپر ٹیکس میں بھی 0.5 فیصد کمی کی تجویز منظور کی، جس کا مقصد کاروباری ماحول کو بہتر بنانا اور صنعتکاروں کو کچھ حد تک سہولت فراہم کرنا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ تجاویز آئندہ بجٹ میں شامل ہوں گی، اور ان کی منظوری سے متوسط طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انکم ٹیکس تنخواہ دار طبقہ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ قومی اسمبلی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انکم ٹیکس تنخواہ دار طبقہ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ قومی اسمبلی ٹیکس کی شرح تنخواہ دار انکم ٹیکس
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :