تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس سلیب اور نان فائلر کے کیش نکلوانے کی حد میں تبدیلی منظور WhatsAppFacebookTwitter 0 21 June, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں فنانس بل کا شق وار جائزہ لیا گیا، جس کے دوران نان فائلرز، تنخواہ دار طبقے، پنشنرز اور کارپوریٹ سیکٹر سے متعلق کئی اہم تجاویز پر منظوری اور ردعمل سامنے آیا۔کمیٹی نے نان فائلرز کیلئے کیش نکلوانے کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر 75 ہزار روپے روزانہ کرنے کی تجویز منظور کر لی۔ تاہم ایف بی آر کی نان فائلرز پر ود ہولڈنگ ٹیکس 1فیصد کرنے کی تجویز مسترد کر دی گئی۔یومیہ 75ہزار روپے کیش نکلوانے پر ٹیکس کی شرح 0 اعشاریہ6فیصد سے بڑھا کر 0اعشاریہ8فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ سینیٹ کمیٹی نے اسی مد میں 1 فیصد ٹیکس کی منظوری دی ہے۔

اس پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا ہماری درخواست ہے کہ اس کو ایک فیصد کر دیا جائے تاہم رکن کمیٹی نوید قمر نے سینیٹ کی تجاویز پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ ہاوس آف لارڈز ہے اور ہم ہاس آف کامنز، ان کی تجاویز وہیں رہنے دیں۔کمیٹی نے سالانہ 6سے 12لاکھ روپے آمدن پر 1فیصد انکم ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دیدی۔ یاد رہے کہ بجٹ میں یہ شرح پہلے 2 اعشاریہ5فیصد رکھی گئی تھی، جبکہ موجودہ مالی سال میں یہی آمدن 5 فیصد ٹیکس کی زد میں آتی ہے۔ سالانہ ایک کروڑ روپے سے زیادہ پنشن حاصل کرنے والوں پر 5 فیصد انکم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز منظور کر لی گئی، البتہ چیئرمین ایف بی آر نے وضاحت کی کہ سالانہ ایک کروڑ روپے تک کی پنشن پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔اجلاس میں کارپوریٹ سیکٹر پر سپر ٹیکس میں 0اعشاریہ5 فیصد کمی کی تجویز اور کاروباری حدود میں ایف بی آر عملے کی تعیناتی کی تجویز بھی منظور کی گئی۔قائمہ کمیٹی نے آن لائن مارکیٹ پر غیر رجسٹرڈ افراد کو فروخت پر جرمانے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سالانہ 50 لاکھ روپے تک کی آن لائن فروخت پر ٹیکس چھوٹ دی جائے گی۔ اجلاس میں رکن کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ ہم عوام پر اضافی ٹیکس بوجھ کی تجاویز کی منظوری نہیں دے سکتے۔

قائمہ کمیٹی اجلاس میں ڈومیسٹک ای کامرس پر ٹیکس عائد نہ کرنے اور تعلیمی اسٹیشنری اشیا پر زیرو ریٹ سیلز ٹیکس بحال کرنے کی سفارش کی گئی۔اس کے علاوہ ہومیوپیتھک ادویات پر سیلز ٹیکس 18 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کرنے کی بھی تجویز دی گئی۔اجلاس کے دوران کاربونیٹڈ مشروبات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کم کر کے 15 فیصد کرنے اور فارمل جوس انڈسٹری پر بھی ایکسائز ڈیوٹی 20 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی۔ علاوہ ازیں درآمدی اشیا مقررہ مدت میں کلیئر نہ کروانے پر جرمانہ 0اعشاریہ2 فیصد سے بڑھا کر 0اعشاریہ25فیصد کرنے ، کاٹن یارن پر عائد سیلز ٹیکس اب ڈائز اور کیمیکلز پر بھی لاگو کرنے اور غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس شرح برابر کرنے کی بھی تجویز دی گئی۔قائمہ کمیٹی نے کنسٹرکشن انڈسٹری پر ود ہولڈنگ انکم ٹیکس کی شرح 1اعشاریہ5 سے 2 فیصد تک فکس کرنے جبکہ اسٹیل سیکٹر کو ٹیرف اصلاحات اسکیم سے مستثنی قرار دینے کی تجویز بھی دی گئی ، اس کیعلاوہ پرنٹ میڈیا سروسز کیلئے ود ہولڈنگ ٹیکس میں رعایت اور ایف بی آر ملازمین کے پرفارمنس الاونس کو غیر منجمد کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرشاہ محمود قریشی کی 9 مئی شادمان آتشزدگی کیس میں ضمانت منظور سنگاپورچین کے ساتھ مزید تعاون کا خواہاں ہے، وزیر اعظم سنگاپور تہذیبوں کے مابین باہمی سیکھنے  کے عمل کو جاری رکھنا چاہئے، چینی نائب وزیر اعظم استنبول میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس، ایران و غزہ صورتحال پر توجہ مرکوز اسرائیلی وزیر دفاع کا ایران کی قدس فورس کے سربراہ کو شہید کرنے کا دعویٰ، اصفہان میں نیو کلیئر سائٹ پر بھی حملہ آئینی بنچ کی مدت میں توسیع پر جسٹس منصور علی شاہ کے تحفظات، جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم شہید بینظیر بھٹو کی 72ویں سالگرہ، قومی قیادت کا خراجِ عقیدت TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کیش نکلوانے

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی