اسرائیلی جارحیت سے عالمی امن کو خطرہ ہے: اسحاق ڈار کا او آئی سی اجلاس سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
استنبول: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جارحیت سے عالمی امن کو خطرہ ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں، پاکستان ایران کے دفاعی موقف کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ ایرانی خود مختاری پر حملہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، غزہ میں بھی اسرائیلی مظالم ناقابل برداشت ہوچکے ہیں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں پر ظلم رکوانا امت مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے، پاکستان فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا، اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں افراد شہید ہوچکے ہیں، غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کو مختلف چیلنجز درپیش ہیں جن سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا وقت کی ضرورت ہے، اسلامو فوبیا کی روک تھام کے لیے ہم سب کو مل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔
نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے حصے کا پانی روکنا کسی صورت قبول نہیں، مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتے ہیں، خطے میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیلی جارحیت کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کے لیے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔