بھارتی اسپنر یوزویندر چہل اور دھناشری ورما کے درمیان طلاق کی وجہ سمجھی جانیوالی آر جے مہوش نے ناقدین کو اپنی ویڈیو سے کرارا جواب دیدیا۔

فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اداکارہ آر جے مہوش نے ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے بھارتی اسپنر یوزویندر چہل سے دوستی کے بَل پر کیرئیر بنانے سے متعلق تنقید پر کھل کر تصاویر شیئر کیں۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ 2019 سے وہ انڈسٹری کا حصہ ہیں، اس دوران انہوں نے نامور کھلاڑیوں، بالی ووڈ اداکاروں اور انکے ساتھ کام کیا، یہ سب انکی اپنی محنت تھی، انہوں نے کسی کا سہارا نہیں لیا۔ایک صارف نے سوال اٹھایا تھا کہ کرکٹ کا معلوم نہیں ہے اور پچ تک پہنچ گئیں؟ جس پر مہوش نے جواب دیا کہ جب تم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جب سے ایونٹس کو ہوسٹ کررہی ہوں۔

انہوں نے یوزویندر چہل کی دوستی سے پہلے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے بھی انڈسٹری کے بڑے لوگوں سے ملتی رہی ہیں، انہیں کسی کے کندھے پر آگے بڑھنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔

آر جے مہوش نے ناقدین کو جواب دیا کہ انہوں نے 2 کتابیں بھی لکھی ہیں اور کسی کو شک ہو تو جاکر ایمزون دیکھ لے۔

خیال رہے کہ یوزویندر چہل اور دھناشری ورما کے درمیان طلاق سے قبل دونوں کئی بار ایک ساتھ دیکھا گیا تھا، بعدازاں خبریں سامنے آئیں تھی کہ ایک دوسرے کو ڈیٹ کررہے ہیں تاہم مہوش نے افواہوں محض دوستی کا نام دیا۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: یوزویندر چہل ا ر جے مہوش انہوں نے مہوش نے

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا