امریکا کی جانب سے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال پر غور کے لیے قومی سلامتی کمیٹی کا ایک ہنگامی اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہو گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ اجلاس پیر کی شام کو ہو گا، جس کی صدارت وزیر اعظم شہباز شریف کریں گے، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں سول اور عسکری قیادت کے اہم ترین عہدیدار شریک ہوں گے، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر حال ہی میں امریکا کے دورے سے واپس آئے ہیں اور اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

پاکستان کی جانب سے امریکی حملوں کی مذمت

پاکستان نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی سخت مذمت کی ہے، یہ حملے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے صرف 4 روز بعد کیے گئے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزیشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو میں امریکی حملے اور اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی، وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے ایک سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نے گزشتہ 8 دنوں سے جاری اسرائیلی جارحیت کو بلاجواز اور اشتعال انگیز قرار دیا، اور کہا کہ امریکی حملے اس کے بعد کیے گئے۔

وزیر اعظم نے ایرانی عوام اور حکومت کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا اور جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ امریکہ نے ان تنصیبات پر حملہ کیا جو اقوام متحدہ کی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر کو ٹیلی فون، امریکی حملوں کی مذمت، ایران کیساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کا اعادہ

وزیر اعظم شہباز شریف نے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی جوہری توانائی ایجنسی کے ضوابط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا، انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کے حقِ دفاع کو تسلیم کرتے ہوئے فوری مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا اور سفارت کاری کو مسئلے کا واحد پائیدار حل قرار دیا۔

وزیر اعظم نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی اپیل کی اور کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، وزیر اعظم آفس کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایران پاکستانی عوام اور حکومت کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

مزید پڑھیں:وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات: صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ اور فیصلہ کن صلاحیتوں کو سراہا

ایک علیحدہ بیان میں دفتر خارجہ نے بھی ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی مذمت کی، ترجمان دفتر خارجہ نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ ان حملوں سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی قوانین کی تمام روایات کے منافی ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، دفتر خارجہ نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں اور بحران کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اپنائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آرمی چیف شہباز شریف فیلڈ مارشل عاصم منیر قومی سلامتی کمیٹی ہنگامی اجلاس وزیر اعظم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا رمی چیف شہباز شریف فیلڈ مارشل عاصم منیر قومی سلامتی کمیٹی ہنگامی اجلاس فیلڈ مارشل عاصم منیر اعظم شہباز شریف امریکی حملوں کی اقوام متحدہ تنصیبات پر کی جوہری ایران کی کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ