امریکی جارحیت عالمی ضمیر کیلئے لمحہ فکریہ ہے، انجمن امامیہ گلگت بلتستان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
بیان کے مطابق اس ساری صورتحال میں حکومتِ پاکستان کا کردار نہایت مایوس کن اور مجرمانہ حد تک خاموش ہے، اور سب سے شرمناک اقدام یہ ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے عالمی دہشتگرد، اسلام دشمن اور جنگی مجرم ڈونلڈ ٹرمپ کو “نوبل امن انعام” دینے کی سفارش کی جا رہی ہے اسلام ٹائمز۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ کی جانب سے کیے گئے بزدلانہ اور وحشیانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے، یہ حملہ نہ صرف ایران کی خودمختاری پر حملہ ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور عالمی ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے۔ فورڈو، ناٹانز اور اصفہان جیسے اہم جوہری مراکز کو نشانہ بنا کر امریکہ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ دنیا میں امن کا نہیں بلکہ خونریزی، افراتفری اور اسلام دشمنی کا علمبردار ہے، اور اسرائیل کے ساتھ مل کر جس طرح اسلامی ممالک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ عالمی ضمیر کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اقوامِ متحدہ، او آئی سی، عالمی عدالت انصاف اور دیگر عالمی ادارے اس کھلی جارحیت پر محض بیانات تک محدود ہیں، جب کہ وقت کا تقاضا ہے کہ وہ زبانی تشویش سے بڑھ کر عملی اقدامات کریں۔
بیان کے مطابق اس ساری صورتحال میں حکومتِ پاکستان کا کردار نہایت مایوس کن اور مجرمانہ حد تک خاموش ہے، اور سب سے شرمناک اقدام یہ ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے عالمی دہشتگرد، اسلام دشمن اور جنگی مجرم ڈونلڈ ٹرمپ کو “نوبل امن انعام” دینے کی سفارش کی جا رہی ہے، جو کہ اس وقت ایران جیسے پرامن اسلامی ملک پر حملہ آور ہے، یہ سفارش نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ پاکستان کے کروڑوں باشعور عوام، امت مسلمہ، اور اسلامی اخوت کے جذبات کی کھلی توہین ہے۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فوری طور پر اس سفارش کو واپس لے، ایران پر امریکی جارحیت کی کھل کر مذمت کرے اور اسلامی اتحاد کا عملی ثبوت دے۔انجمن امامیہ اس موقع پر تمام باشعور، غیرتمند، محب وطن اور حق پرست طبقات سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ظلم و بربریت کے خلاف آواز بلند کریں، کیونکہ آج اگر ہم خاموش رہے تو کل یہ آگ ہمارے دروازے پر ہو گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انجمن امامیہ کی جانب سے ہے کہ وہ
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔