ایرانی حملہ: مشکل گھڑی میں قطر کی حکومت اور عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
قطر پر ایرانی حملے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے قطری اور سعودی عرب کے سفرا سے ہنگامی ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر اعظم نے رات گئے قطری سفیر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور سفیر علی مبارک سے حملے کے بعد کی صورت حال پر گفتگو کی۔
ٹیلیفونک رابطے کے دوران وزیراعظم نے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملوں کی خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے اس مشکل گھڑی میں قطر کی حکومت اور عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔
قطری سفیر نے اس افسوسناک واقعے کے فوراً بعد وزیراعظم کی جانب سے رابطہ کرنے اور قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے بھی ہنگامی رابطہ کیا اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے ہر ممکن سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے سعودی قیادت کے ساتھ قریبی رابطے جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا جس پر سعودی سفیر نے خطے کے امن کیلئے پاکستان کے کردار کی تعریف اور مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم نے خطے میں امن کیلئے پاکستان، سعودی عرب اور قطر کے قریبی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا اظہار
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔