قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اراکین میں ہاتھا پائی
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) قومی اسمبلی اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان، خصوصاً پی ٹی آئی کے اراکین نے احتجاج کیا، پیپلزپارٹی نے اس رویے پر برہمی کا
اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر اپوزیشن شور شرابا کرے گی تو وہ بھی عمر ایوب سمیت کسی کو بولنے نہیں دیں گے۔سینیٹ کی سفارشات پر بحث شروع ہوئی تو اسپیکر نے عمر ایوب کو سفارشات پر بحث شروع کرنے کا کہہ دیا، عمر ایوب کو خطاب کا موقع دینے پر پیپلزپارٹی کے اراکین نے ایوان میں کھڑے ہو کر نعرے بازی کی اور واضح کیا کہ بلاول کی تقریر کے دوران مداخلت پر وہ اب اپوزیشن کو بات نہیں کرنے دیں گے۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان کو پرامن رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے پیپلزپارٹی اراکین سے کہا کہ آپ دل بڑا کریں، عمر ایوب کو بولنے دیں۔پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے بلاول زرداری پر سخت تنقید کی جس پر پیپلزپارٹی کے اراکین شدید غصے میں آگئے اور اسپیکر کے ڈائس تک پہنچ گئے،ا سپیکر نے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے اقبال آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ آپ اسمبلی نہیں چلنے دیں گے۔مسلم لیگ ن کے رکن طارق فضل چودھری کو مخاطب کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ وہ جا کر بلاول زرداری سے درخواست کریں کہ اپنے اراکین کو سمجھائیں اور عمر ایوب کو بات کرنے کا موقع دیں تاکہ ایوان کی کارروائی معمول کے مطابق جاری رہ سکے۔اسپیکراسمبلی نے ایجنڈا آئٹم 3 تھوڑی دیر کے لیے مؤخر کرتے ہوئے وزیر خزانہ کو بجٹ بحث سمیٹنے کی ہدایت کر دی۔ ایاز صادق نے کہا کہ ایوان کا ماحول اقبال آفریدی نے خراب کیا، سیکورٹی کو بلائیں۔ پیپلز پارٹی اراکین کے احتجاج کے بعد عمر ایوب کو مائیک نہ دیا گیا، جس پر اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں احتجاج کیا۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی تقریر کے دوران پھر اپوزیشن نے شور شرابا کیا، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، اپوزیشن ارکان نے اسپیکر کے سامنے احتجاج کیا جبکہ رکن اسمبلی اقبال آفریدی نے حنیف عباسی سے ہاتھا پائی کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اقبال ا فریدی قومی اسمبلی عمر ایوب کو کرتے ہوئے کے دوران
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔