قومی اسمبلی اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں ہاتھا پائی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
پیپلز پارٹی اراکین کے احتجاج کے بعد اپوزیشن راہنما کو مائیک نہ دیا گیا، جس پر اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں احتجاج کیا۔ وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران پھر اپوزیشن نے شور شرابا کیا، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، اپوزیشن ارکان نے سپیکر کے سامنے احتجاج کیا۔ اسلام ٹائمز۔ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان، خصوصاً پی ٹی آئی کے اراکین نے احتجاج کیا، پیپلزپارٹی نے اس رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر اپوزیشن شور شرابا کرے گی تو وہ بھی عمر ایوب سمیت کسی کو بولنے نہیں دیں گے۔
سینیٹ کی سفارشات پر بحث شروع ہوئی تو سپیکر نے عمر ایوب کو سفارشات پر بحث شروع کرنے کا کہہ دیا، عمر ایوب کو خطاب کا موقع دینے پر پیپلزپارٹی کے اراکین نے ایوان میں کھڑے ہو کر نعرے بازی کی اور واضح کیا کہ بلاول کی تقریر کے دوران مداخلت پر وہ اب اپوزیشن کو بات نہیں کرنے دیں گے۔اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی نے ایوان کو پرامن رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے پیپلزپارٹی اراکین سے کہا کہ آپ دل بڑا کریں، عمر ایوب کو بولنے دیں، سردار ایاز صادق نے مزید کہا کہ 2 غلط مل کر ایک ٹھیک نہیں ہوتے۔
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے بلاول بھٹو پر سخت تنقید کی جس پر پیپلزپارٹی کے اراکین شدید غصے میں آگئے اور سپیکر کے ڈائس تک پہنچ گئے، سپیکر نے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے اقبال آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ آپ اسمبلی نہیں چلنے دیں گے۔
مسلم لیگ نون کے رکن طارق فضل چودھری کو مخاطب کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ وہ جا کر بلاول بھٹو سے درخواست کریں کہ اپنے اراکین کو سمجھائیں اور عمر ایوب کو بات کرنے کا موقع دیں تاکہ ایوان کی کارروائی معمول کے مطابق جاری رہ سکے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے ایجنڈا آئٹم 3 تھوڑی دیر کیلئے مؤخر کرتے ہوئے وزیر خزانہ کو بجٹ بحث سمیٹنے کی ہدایت کر دی، ایاز صادق نے کہا کہ ایوان کا ماحول اقبال آفریدی نے خراب کیا، سکیورٹی کو بلائیں۔
پیپلز پارٹی اراکین کے احتجاج کے بعد عمر ایوب کو مائیک نہ دیا گیا، جس پر اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں احتجاج کیا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی تقریر کے دوران پھر اپوزیشن نے شور شرابا کیا، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، اپوزیشن ارکان نے سپیکر کے سامنے احتجاج کیا، جبکہ رکن اسمبلی اقبال آفریدی نے حنیف عباسی سے ہاتھا پائی کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان قومی اسمبلی عمر ایوب کو احتجاج کیا کرتے ہوئے کہا کہ
پڑھیں:
شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری
فوٹو: فائلوزیراعظم اور نائب وزیراعظم سمیت مختلف اعلیٰ حکومتی شخصیات کو 21 قیمتی تحائف ملے، کابینہ ڈویژن نے اپریل تا جون توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری کردیا۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم اور نائب وزیراعظم توشہ خانہ تحائف وصول کرنے والوں میں شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کو ایک شوگر باؤل، قیمتی قلم، مسجد نبویﷺ کا ماڈل، شیلڈ اور ٹائی بطور تحفہ ملی۔
دستاویز کے مطابق وزیراعظم کو چینی خلائی اسٹیشن کا ماڈل، ایک کپ، گھڑی اور شیلڈ بھی بطور تحفہ ملی۔
دستاویز کے مطابق نائب وزیراعظم کو چمڑے سے بنا چینی بیلٹ، مصری اسٹیچو کا ماڈل اور کف لنکس بطور تحفہ ملے۔
دونوں اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات نے حاصل ہونے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کرا دیے۔ کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کو ملنے والے تحائف کی قیمتوں کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔