روس کے یوکرین پر میزائل حملے: 9 افراد ہلاک، انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماسکو: روس کے میزائل حملے میں یوکرین کے جنوب مشرقی علاقے ڈنیپرو پیٹروسک میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ انفرااسٹرکچر کوبھی نقصان پہنچا۔
میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق گورنر سرہی لِساک نے بتایا کہ اس حملے میں علاقائی دارالحکومت ڈنیپرو میں 7 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ٹرین کی بوگیوں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور کانچ کے ٹکڑے گرنے سے متعدد مسافر زخمی ہو گئے۔
گورنر سرہی لِساک کا کہنا تھا کہ 10 بچوں سمیت تقریباً 70 افراد زخمی ہوئے جبکہ یہ تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، ریاستی ایمرجنسی سروس کے مطابق، ڈنیپرو سے تقریباً 10 کلومیٹر دور واقع قصبے سامر میں بھی دو افراد ہلاک ہوئے۔یوکرینی نائب وزیر خارجہ آندریئی سیبیہا نے کیف کے مغربی اتحادیوں سے اس حملے کے جواب میں مؤثر ردِ عمل کا مطالبہ کیا.
آندریئی سیبیہا نے ایکس پر لکھا کہ یہ اتحادیوں کی ساکھ کا مسئلہ ہے کہ وہ ماسکو پر دباؤ بڑھائیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ڈنیپرو میں اسکول، کنڈرگارٹن اور ایک ہسپتال بھی حملے میں متاثر ہوئے، جبکہ سامر میں نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر علاقوں میں ڈرون اور میزائلوں سے تازہ حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں ایک بچے سمیت 10 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔یوکرینی حکام نے بتایا تھا کہ روسی حملوں کے نتیجے میں رہائشی علاقوں میں آگ لگ گئی اور میٹرو اسٹیشن کے بم شیلٹر کے داخلی دروازے کو نقصان پہنچا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افراد ہلاک روس کے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک