ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے کلائمٹ فنانس اینڈ ٹرانسپیرنسی پر جرنلسٹ فیلوشپ کا آغاز کردیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی : ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پاکستان) نے ماحولیاتی شفافیت کے فروغ اور کلائمٹ گورننس کے موضوع پر صحافیوں کی آگاہی اور تربیت کے لیے “کلائمٹ فنانس اینڈ ٹرانسپیرنسی جرنلسٹ فیلوشپ” کا باقاعدہ آغاز کردیا۔ فیلوشپ کی افتتاحی تقریب کراچی میں منعقد ہوئی جس میں مختلف ماہرین، سابق جج، صحافیوں اور ماحولیاتی ماہرین نے شرکت کی۔
فیلوشپ کے لیے سندھ کے ان اضلاع سے 15 صحافیوں کو منتخب کیا گیا ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہیں۔ تربیتی پروگرام میں ماہرین نے کلائمٹ گورننس، کلائمٹ فنانس میں شفافیت، کاربن مارکیٹس اور مؤثر کلائمٹ ایکشن جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی لیکچرز دیے۔
تقریب میں سابق جج سپریم کورٹ اور ٹی آئی پاکستان کے چیئرمین ضیا پرویز، بورڈ آف ٹرسٹیز کی رکن ڈاکٹر عظمیٰ شجاعت، سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر (پبلک اویئرنیس) کے علاوہ سینئر صحافی لبنیٰ جرار نقوی، کلائمٹ اینڈ نیچر ایکسپرٹ حمزہ بٹ، ٹی آئی پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کاشف علی، پروجیکٹ کوآرڈینیٹر نسرین میمن، پالیسی اینڈ ریسرچ کوآرڈینیٹر رائمہ محمود اور پروگرام ایسوسی ایٹ فریحہ فاطمہ بھی شریک تھے۔
ماہرین نے تربیتی سیشن کے دوران کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں کلائمٹ فنانس کی شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانا ازحد ضروری ہے تاکہ ماحولیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کا درست استعمال ممکن ہو۔ ورکشاپ میں صحافیوں کو بتایا گیا کہ کس طرح صحافت کے ذریعے ماحولیاتی خطرات اور فنڈنگ میں بے ضابطگیوں کو اجاگر کیا جا سکتا ہے تاکہ پالیسی ساز ادارے مؤثر اقدامات پر مجبور ہوں۔
ٹی آئی پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس فیلوشپ کا بنیادی مقصد صحافیوں کو ماحولیاتی بحران، کلائمٹ فنانس، کاربن مارکیٹس اور موسمیاتی شفافیت سے متعلق موضوعات پر تحقیق اور رپورٹنگ کے قابل بنانا ہے تاکہ وہ ان اہم مسائل کو عوامی اور حکومتی سطح پر اجاگر کر سکیں۔
شرکا نے ٹی آئی پاکستان کے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ اس نوعیت کی فیلوشپ نا صرف پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی بلکہ ماحولیاتی شعور کو فروغ دینے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹی آئی پاکستان کلائمٹ فنانس
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔