چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے قومی سلامتی مشیروں کے اجلاس میں پاکستان اور بھارت کے نمائندوں کے درمیان کشیدہ تبادلہ خیال ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کا دورہ چین، پاکستان اور چین کا سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق

پاکستان کے قومی سلامتی مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم ملک نے اپنی مدلل اور جامع تقریر میں بھارتی سیکیورٹی مشیر اجیت ڈوول کے بیانیے کو یکسر مسترد کر دیا۔

اجلاس میں تیز ترین ردعمل 

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی نمائندے نے اپنی تقریر میں متنازعہ ’آپریشن سندور‘ کو دہشتگردی کے خلاف ایک جائز کارروائی قرار دیتے ہوئے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے۔

تاہم پاکستانی وفد نے اس بیان کو یکطرفہ پروپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کی۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے نہ صرف بھارتی مؤقف کو مسترد کیا بلکہ بھارت کی جانب سے اپنے داخلی مسائل کو پاکستان پر تھوپنے کی کوشش کو بھی بے نقاب کیا۔

پاکستان کا مضبوط دفاع 

پاکستانی قومی سلامتی مشیر نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ بھارت، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگرد گروہوں کو سرپرستی فراہم کر رہی ہے، جس کے پختہ شواہد موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس پاکستان چین میں شنگھائی تعاون تنظیم جوڈیشل کانفرنس میں شرکت کریں گے

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر بین الاقوامی فورمز پر غلط بیانی کرتا ہے۔ ان کی جانب سے سامنے آنے والے حقائق نے بھارتی وفد کو جواب دینے کی کوئی گنجائش نہ چھوڑی۔

بھارتی وفد کی خاموشی 

عاصم ملک کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل کے بعد بھارتی سیکیورٹی مشیر اجیت ڈوول کوئی مؤثر جواب دینے سے قاصر رہے اور انہیں اپنی تقریر ختم کرنی پڑی۔

مبصرین کے مطابق یہ ایک بار پھر ثابت ہوا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کا کردار

اس اجلاس میں SCO کے رکن ممالک نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ پر زور دیا۔ چین نے دونوں ممالک سے کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی اپیل کی۔ تاہم بھارت کی جانب سے مسلسل بلاوجہ الزامات نے اس فورم کے مقاصد کو متاثر کیا۔

تجزیہ کاروں کی رائے 

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ کانفرنس میں پاکستان کی جانب سے دیے گئے مدلل مؤقف نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت اپنے داخلی بحرانوں کی پردہ پوشی کے لیے پاکستان کو نشانہ بناتا ہے۔

تاہم پاکستان کی جانب سے سامنے آنے والے شواہد نے بھارتی بیانیے کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔

اس اجلاس نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستان بین الاقوامی فورمز پر اپنے مؤقف کا مؤثر طریقے سے دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ بھارت اپنے الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کی جانب سے کہ بھارت عاصم ملک

پڑھیں:

سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا

سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔

فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ 

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ