انجمنِ شرعی شیعیان کے صدر نے کہا کہ یہ عظیم کامیابی نہ صرف ایران کی عسکری قوت اور حکیمانہ حکمت عملی کا مظہر ہے، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کیلئے فخر، استقامت اور امید کا نشان بھی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر انجمنِ شرعی شیعیان کے صدر مولانا آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے ایک پیغام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت، افواج اور بیدار ملت کو اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ میں حاصل ہونے والی شاندار فتح پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمٰی سید علی حسینی خامنہ ای اور بیدار ملت کو غاصب اسرائیل، امریکہ اور عالمی استکبار کے ساتھ حالیہ جنگ میں حاصل ہونے والی شاندار فتح پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہیہ عظیم کامیابی نہ صرف ایران کی عسکری قوت اور حکیمانہ حکمت عملی کا مظہر ہے، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لئے فخر، استقامت اور امید کا نشان بھی ہے۔ ایران نے اس جنگ میں صرف اپنا دفاع ہی نہیں کیا، بلکہ مظلوم اقوام کی ترجمانی کرتے ہوئے عالمی استکبار کے خلاف ایک روشن مثال قائم کی ہے۔ آغا سید حسن موسوی الصفوی نے مزید کہا کہ ایران کی یہ استقامت حق و انصاف کے علمبرداروں کے لئے ایک حوصلہ افزاء پیغام ہے اور پوری دنیا کے مظلومین کے لئے ایک نئی امید کی کرن ہے۔ آخر میں آغا سید حسن نے بارگاہِ رب العزت میں دعا کی کہ خداوند متعال ایران کو مزید کامیابیوں سے نوازے اور امتِ اسلامیہ کو ظلم و استکبار کے خلاف متحد، بیدار اور ثابت قدم رکھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران کی کہا کہ

پڑھیں:

ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات

واشنگٹن:

امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔

سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔

سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔

بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔

ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔

روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار