Jasarat News:
2026-07-24@07:24:12 GMT

ایران کی طاقت

اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئی عالمی جنگ القدس کے گرد گھوم رہی ہے، جسے بعض تیسری یا آخری عالمی جنگ کی ابتدا بھی کہتے ہیں۔ فلسطین کی آزادی کی یہ جنگ اسلام اور شہادت کے جذبے سے سرشار انتفاضہ اور فلسطینی نوجوانوں کے غلیل سے شروع ہوئی۔ ان نوجوانوں کو حماس جیسی تنظیم مل گئی، جس نے غزہ پر اپنی گرفت مضبوط کی۔ سیکولر اور لبرل فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کمزور پڑ گئی، لیکن حماس جہاد، فتح، عزت، اور ہمت کا استعارہ بن گئی۔ایران کے اسلامی انقلاب کو محدود کرنے کے لیے، امریکا، مغرب، اور مشرق وسطیٰ کی سنی ریاستیں اسے ’’شیعہ انقلاب‘‘ کہہ کر شیعہ، سنی منافرت کو ہوا دینے کی کوشش کرتی رہیں۔ اس کے باوجود، ایران نے فلسطین کی سنی جہادی قوت حماس کی مدد کی اور مصر میں سنی اخوان المسلمون کی حمایت کی۔

اسرائیل نے حماس کی قوت کو کچلنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دی۔ اس نے حماس کے اہم رہنماؤں کو شہید کیا، جن میں شیخ احمد یاسین (2004)، عبد العزیز رنتیسی (2004)، صلاح شحادہ (2002)، یحییٰ عیاش (1996)، اسماعیل ہنیہ (2024)، یحییٰ السنوار (2024)، صالح العاروری (2024)، مروان عیسیٰ (2025)، احمد الجعبری (2012)، روحی مشتہیٰ (2024)، عدنان الغول (2004)، نزار ریان (2009)، جمیلہ الشنطی (2023)، رافع سلامہ (2024)، زکریا ابو معمر (2023)، جواد ابو شمالہ (2023)، اسماعیل برہوم (2025)، باسم نوفل، اور عماد عقل (1993) شامل ہیں۔

7 اکتوبر 2023 کو حماس نے ایرانی میزائلوں کی مدد سے اسرائیل پر حملہ کر کے ثابت کیا کہ وہ ابھی زندہ، متحرک، اور شوقِ شہادت سے سرشار ہے۔ حماس نے اسرائیل کی غلامی قبول نہیں کی اور نہ کبھی کرے گی۔ وہ آخری سانس تک لڑے گی۔ حماس کی اس نئی طاقت کا اصل سہرا ایران کو جاتا ہے۔ ایران نے فلسطینیوں کی مدد کے لیے حماس کے ساتھ ساتھ لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثیوں، اور شام کی حکومت کے ذریعے عسکری امداد فراہم کی۔ تاہم اسرائیل اور امریکا نے ان قوتوں کو ایک ایک کر کے کمزور کیا۔ حزب اللہ کی پوری قیادت شہید کر دی گئی، اور شام میں بشار الاسد کی حکومت ختم کر کے ابو محمد الجولانی (حقیقی نام: احمد حسین الشعرہ)، جو مبینہ طور پر مغربی ایجنسیوں کی حمایت یافتہ ’’اسلامک اسٹیٹ‘‘ کا سابق رکن ہے، کو اقتدار دیا گیا۔ الجولانی کی حکومت نے شام کے ایک بڑے علاقے پر اسرائیلی قبضے کی کوئی مزاحمت نہیں کی۔

اکتوبر 2023 سے جون 2025 تک اسرائیلی حملوں سے فلسطین میں 57,800 سے زائد ہلاکتیں، 130,000 سے زائد زخمی، 360,000 عمارتوں کی تباہی، 100 سے زائد اسکولوں اور متعدد اسپتالوں کو نقصان، اور بنیادی ڈھانچے کی وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی۔ غزہ میں 10,000 سے زائد بچے ہلاک ہوئے، جبکہ مغربی کنارے میں 195 بچوں کی ہلاکت رپورٹ ہوئی۔ 10,000 سے زائد افراد مفقود ہیں، جن میں 21,000 بچے شامل ہیں (17,000 غیر ہمراہ اور 4,000 ملبے تلے دبے ہوئے)۔ اسرائیل غزہ پر مسلسل حملے کر رہا ہے، جہاں بھوکے اور پیاسے بچے ریلیف ٹرکوں کے پاس خوراک لینے جاتے ہیں تو ان پر حملے ہوتے ہیں۔ بچوں اور عورتوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود، فلسطینی مجاہدین ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں، اور اسرائیل اپنے ایک بھی قیدی کو طاقت سے چھڑانے میں ناکام رہا ہے۔

قدیم مصر میں فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرتا تھا، لیکن آج بنی اسرائیل فلسطینی بچوں کے قتل میں فرعون سے کہیں آگے نکل گیا ہے۔ وہ ظلم کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔ فلسطینیوں کی حمایت کی وجہ سے اسرائیل نے ایران کو مستقل نشانہ بنایا۔ امام خمینی کے فتوے کی وجہ سے کہ ایران ایٹم بم نہیں بنائے گا، اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے تھا۔ لیکن ایران کی فوجی ترقی اور اسلحہ سازی کی صلاحیت اسرائیل کے لیے ناقابل ِ برداشت تھی۔ گزشتہ بیس سال سے خبریں تھیں کہ اسرائیل ایران کے جوہری تنصیبات پر حملہ کرے گا۔ بالآخر، 13 جون 2025 کو اسرائیل نے تہران، اصفہان، نطنز، اور دیگر علاقوں میں فوجی تنصیبات، جوہری سہولتوں، سویلین آبادی، عمارتوں، میڈیا ہاؤسز، اور بنیادی ڈھانچے پر وسیع پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ ان حملوں میں ایران کی اعلیٰ فوجی اور جوہری قیادت شہید ہوئی، جن میں 20 سینئر فوجی کمانڈرز اور 14 جوہری سائنسدان شامل ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق، 657 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 70 خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ سیکڑوں عمارتیں (فوجی، جوہری، توانائی، اور رہائشی) تباہ یا متاثر ہوئیں، اور 1,100 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

لیکن ایران نے 24 گھنٹوں میں اپنی فوجی قیادت کو ازسرنو منظم کیا اور اسرائیل پر جوابی حملہ کیا۔ ان حملوں میں اسلامی جنگی اخلاقیات کا خیال رکھا گیا، یعنی کم سے کم جانی نقصان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا۔ نتیجتاً، اسرائیل میں صرف 28 افراد ہلاک اور 3,238 زخمی ہوئے (اسرائیلی ذرائع کے مطابق)۔ ایرانی حملوں سے تل ابیب، رامات گان، پیٹح تکوا، بات یام، اور رشون لیزیون میں 100 سے 200 عمارتیں، بشمول آئل ریفائنری اور ٹیکنالوجی پارکس، تباہ یا متاثر ہوئیں۔ اسرائیل نے اپنے دفاعی نظام کی ناکامی اور نقصانات کو چھپانے کی کوشش کی تاکہ اس کی طاقت کا بھرم برقرار رہے۔ ایک ہفتے بعد ہی اسرائیل نے امریکا سے مدد مانگنی شروع کر دی۔ آخر کار، ڈونلڈ ٹرمپ نے دھوکے سے B-2 طیاروں سے بنکر بسٹر بموں کے ذریعے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر حملہ کیا۔ ٹرمپ کی غیر سنجیدگی، مسلسل بدلتے بیانات، اور اسرائیل کی حمایت نے ان کی ساکھ کو ناقابل ِ اعتماد بنا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب کسی قوم کی شامت آتی ہے، تو اس کے لیڈر عقل سے عاری ہو جاتے ہیں۔ ٹرمپ کا غیر سنجیدہ رویہ اور اسرائیل کی غلامی امریکا کو تباہی کی طرف لے جائے گی۔

اصل نکتہ نقصانات کی مقدار نہیں، بلکہ طاقت کا توازن ہے۔ ایران نے اپنے جدید ڈرونز اور میزائل ٹیکنالوجی سے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف اسرائیل، بلکہ مشرق وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو تباہ کر سکتا ہے۔ ایران کے پاس طاقت، ایمانی جوش، جدید ٹیکنالوجی، معیشت، جرأت، اور صبر موجود ہے۔ اس نے اسرائیل اور اس کے سرپرست امریکا کی دہشت گردی کو بھرپور طریقے سے چیلنج کیا اور مشرق وسطیٰ میں ایک عظیم قوت کے طور پر ابھرا، جس نے طاقت کا توازن بدل دیا۔ اگلے کالم میں ہم ایران کی قائدانہ صلاحیت اور اس کی بناؤ کی طاقت پر بات کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور اسرائیل اسرائیل نے ایران کی ایران نے کی حمایت طاقت کا اور اس رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ

 ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا