Jasarat News:
2026-06-03@01:07:20 GMT

ایران کی طاقت

اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئی عالمی جنگ القدس کے گرد گھوم رہی ہے، جسے بعض تیسری یا آخری عالمی جنگ کی ابتدا بھی کہتے ہیں۔ فلسطین کی آزادی کی یہ جنگ اسلام اور شہادت کے جذبے سے سرشار انتفاضہ اور فلسطینی نوجوانوں کے غلیل سے شروع ہوئی۔ ان نوجوانوں کو حماس جیسی تنظیم مل گئی، جس نے غزہ پر اپنی گرفت مضبوط کی۔ سیکولر اور لبرل فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کمزور پڑ گئی، لیکن حماس جہاد، فتح، عزت، اور ہمت کا استعارہ بن گئی۔ایران کے اسلامی انقلاب کو محدود کرنے کے لیے، امریکا، مغرب، اور مشرق وسطیٰ کی سنی ریاستیں اسے ’’شیعہ انقلاب‘‘ کہہ کر شیعہ، سنی منافرت کو ہوا دینے کی کوشش کرتی رہیں۔ اس کے باوجود، ایران نے فلسطین کی سنی جہادی قوت حماس کی مدد کی اور مصر میں سنی اخوان المسلمون کی حمایت کی۔

اسرائیل نے حماس کی قوت کو کچلنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دی۔ اس نے حماس کے اہم رہنماؤں کو شہید کیا، جن میں شیخ احمد یاسین (2004)، عبد العزیز رنتیسی (2004)، صلاح شحادہ (2002)، یحییٰ عیاش (1996)، اسماعیل ہنیہ (2024)، یحییٰ السنوار (2024)، صالح العاروری (2024)، مروان عیسیٰ (2025)، احمد الجعبری (2012)، روحی مشتہیٰ (2024)، عدنان الغول (2004)، نزار ریان (2009)، جمیلہ الشنطی (2023)، رافع سلامہ (2024)، زکریا ابو معمر (2023)، جواد ابو شمالہ (2023)، اسماعیل برہوم (2025)، باسم نوفل، اور عماد عقل (1993) شامل ہیں۔

7 اکتوبر 2023 کو حماس نے ایرانی میزائلوں کی مدد سے اسرائیل پر حملہ کر کے ثابت کیا کہ وہ ابھی زندہ، متحرک، اور شوقِ شہادت سے سرشار ہے۔ حماس نے اسرائیل کی غلامی قبول نہیں کی اور نہ کبھی کرے گی۔ وہ آخری سانس تک لڑے گی۔ حماس کی اس نئی طاقت کا اصل سہرا ایران کو جاتا ہے۔ ایران نے فلسطینیوں کی مدد کے لیے حماس کے ساتھ ساتھ لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثیوں، اور شام کی حکومت کے ذریعے عسکری امداد فراہم کی۔ تاہم اسرائیل اور امریکا نے ان قوتوں کو ایک ایک کر کے کمزور کیا۔ حزب اللہ کی پوری قیادت شہید کر دی گئی، اور شام میں بشار الاسد کی حکومت ختم کر کے ابو محمد الجولانی (حقیقی نام: احمد حسین الشعرہ)، جو مبینہ طور پر مغربی ایجنسیوں کی حمایت یافتہ ’’اسلامک اسٹیٹ‘‘ کا سابق رکن ہے، کو اقتدار دیا گیا۔ الجولانی کی حکومت نے شام کے ایک بڑے علاقے پر اسرائیلی قبضے کی کوئی مزاحمت نہیں کی۔

اکتوبر 2023 سے جون 2025 تک اسرائیلی حملوں سے فلسطین میں 57,800 سے زائد ہلاکتیں، 130,000 سے زائد زخمی، 360,000 عمارتوں کی تباہی، 100 سے زائد اسکولوں اور متعدد اسپتالوں کو نقصان، اور بنیادی ڈھانچے کی وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی۔ غزہ میں 10,000 سے زائد بچے ہلاک ہوئے، جبکہ مغربی کنارے میں 195 بچوں کی ہلاکت رپورٹ ہوئی۔ 10,000 سے زائد افراد مفقود ہیں، جن میں 21,000 بچے شامل ہیں (17,000 غیر ہمراہ اور 4,000 ملبے تلے دبے ہوئے)۔ اسرائیل غزہ پر مسلسل حملے کر رہا ہے، جہاں بھوکے اور پیاسے بچے ریلیف ٹرکوں کے پاس خوراک لینے جاتے ہیں تو ان پر حملے ہوتے ہیں۔ بچوں اور عورتوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود، فلسطینی مجاہدین ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں، اور اسرائیل اپنے ایک بھی قیدی کو طاقت سے چھڑانے میں ناکام رہا ہے۔

قدیم مصر میں فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرتا تھا، لیکن آج بنی اسرائیل فلسطینی بچوں کے قتل میں فرعون سے کہیں آگے نکل گیا ہے۔ وہ ظلم کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔ فلسطینیوں کی حمایت کی وجہ سے اسرائیل نے ایران کو مستقل نشانہ بنایا۔ امام خمینی کے فتوے کی وجہ سے کہ ایران ایٹم بم نہیں بنائے گا، اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے تھا۔ لیکن ایران کی فوجی ترقی اور اسلحہ سازی کی صلاحیت اسرائیل کے لیے ناقابل ِ برداشت تھی۔ گزشتہ بیس سال سے خبریں تھیں کہ اسرائیل ایران کے جوہری تنصیبات پر حملہ کرے گا۔ بالآخر، 13 جون 2025 کو اسرائیل نے تہران، اصفہان، نطنز، اور دیگر علاقوں میں فوجی تنصیبات، جوہری سہولتوں، سویلین آبادی، عمارتوں، میڈیا ہاؤسز، اور بنیادی ڈھانچے پر وسیع پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ ان حملوں میں ایران کی اعلیٰ فوجی اور جوہری قیادت شہید ہوئی، جن میں 20 سینئر فوجی کمانڈرز اور 14 جوہری سائنسدان شامل ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق، 657 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 70 خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ سیکڑوں عمارتیں (فوجی، جوہری، توانائی، اور رہائشی) تباہ یا متاثر ہوئیں، اور 1,100 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

لیکن ایران نے 24 گھنٹوں میں اپنی فوجی قیادت کو ازسرنو منظم کیا اور اسرائیل پر جوابی حملہ کیا۔ ان حملوں میں اسلامی جنگی اخلاقیات کا خیال رکھا گیا، یعنی کم سے کم جانی نقصان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا۔ نتیجتاً، اسرائیل میں صرف 28 افراد ہلاک اور 3,238 زخمی ہوئے (اسرائیلی ذرائع کے مطابق)۔ ایرانی حملوں سے تل ابیب، رامات گان، پیٹح تکوا، بات یام، اور رشون لیزیون میں 100 سے 200 عمارتیں، بشمول آئل ریفائنری اور ٹیکنالوجی پارکس، تباہ یا متاثر ہوئیں۔ اسرائیل نے اپنے دفاعی نظام کی ناکامی اور نقصانات کو چھپانے کی کوشش کی تاکہ اس کی طاقت کا بھرم برقرار رہے۔ ایک ہفتے بعد ہی اسرائیل نے امریکا سے مدد مانگنی شروع کر دی۔ آخر کار، ڈونلڈ ٹرمپ نے دھوکے سے B-2 طیاروں سے بنکر بسٹر بموں کے ذریعے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر حملہ کیا۔ ٹرمپ کی غیر سنجیدگی، مسلسل بدلتے بیانات، اور اسرائیل کی حمایت نے ان کی ساکھ کو ناقابل ِ اعتماد بنا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب کسی قوم کی شامت آتی ہے، تو اس کے لیڈر عقل سے عاری ہو جاتے ہیں۔ ٹرمپ کا غیر سنجیدہ رویہ اور اسرائیل کی غلامی امریکا کو تباہی کی طرف لے جائے گی۔

اصل نکتہ نقصانات کی مقدار نہیں، بلکہ طاقت کا توازن ہے۔ ایران نے اپنے جدید ڈرونز اور میزائل ٹیکنالوجی سے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف اسرائیل، بلکہ مشرق وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو تباہ کر سکتا ہے۔ ایران کے پاس طاقت، ایمانی جوش، جدید ٹیکنالوجی، معیشت، جرأت، اور صبر موجود ہے۔ اس نے اسرائیل اور اس کے سرپرست امریکا کی دہشت گردی کو بھرپور طریقے سے چیلنج کیا اور مشرق وسطیٰ میں ایک عظیم قوت کے طور پر ابھرا، جس نے طاقت کا توازن بدل دیا۔ اگلے کالم میں ہم ایران کی قائدانہ صلاحیت اور اس کی بناؤ کی طاقت پر بات کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور اسرائیل اسرائیل نے ایران کی ایران نے کی حمایت طاقت کا اور اس رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع

اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔

لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔

دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان