اسرائیلی ماڈل اپنانے کی تیاری؟ پاکستان کیخلاف بھارتی عزائم بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
بھارت کی جانب سے دفاعی اخراجات میں اضافے اور اسلحے کی خریداری سے خطے کا امن داؤ پر لگ گیا۔
ذرائع کے مطابق بھارت اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ کی طرح کا ماڈل اپنانا چاہتا ہے تاکہ جارحیت کا جواز پیدا کیا جاسکے، اپنے مذموم عزائم کیلئے بھارت مسلسل جدید اسلحہ اور ہتھیار خرید رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مودی سرکار نے گزشتہ دس برس میں اسرائیل اور مغربی ممالک سے اربوں ڈالر کے جدید اورمہلک ہتھیار حاصل کیے۔ 2018 میں بھارت نے اسرائیل سےبارک-8 میزائل سسٹم حاصل کیے۔
بھارت نے فرانس سے 36 رافیل طیاروں کی خریداری کیلئے 9 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا جبکہ روس سے S-400 دفاعی نظام کی حصول کے لیے 5.
بھارت کی جانب سے اسرائیلی ساختہ ہیرپ اور ہیرن ڈرونز بھی درآمد کیے گئے، اس کے علاوہ بھارت اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ نائٹ وژن، مواصلاتی نظام، اور مختلف میزائل کی تیاری میں براہ راست شراکت دار ہے۔
جون 2025 میں اسرائیل کے ایران پر حملے کو بھارت کی جانب سے سراہا گیا اور اسے ممکنہ ماڈل کے طور پردیکھا گیا، جنگی جنون میں مبتلابھارت کی جانب سے مسلسل جدید اورمہلک ہتھیاروں کی خریداری سے جنوبی ایشیا کےامن کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ہرطرح کے بھارتی عزائم سے مکمل طور پرآگاہ ہے، پاکستان نے معرکہ حق میں بھارتی اجارہ داری کا خواب چکنا چور کیا، پاکستان ہر قیمت پر اپنی سالمیت کا دفاع کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑجواب دے گا۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان بھارت کی جانب سے
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان