حکومت سندھ نے محرم الحرام سے پہلے اپنی بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، علامہ صادق جعفری
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
پریس کانفرنس سے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم کراچی کے رہنماؤں نے کہا کہ ہم وزیر اعلیٰ سندھ و وزیر بلدیات سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شہر کے سنگین بلدیاتی مسائل کے حل کیلئے خصوصی فنڈ جاری کریں گے، عشرہ محرم الحرام سے قبل مجالس و جلوس ہائے عزاء کے روٹس پر مکمل صفائی و ستھرائی، بجلی، سکیورٹی سمیت دیگر انتظامات کو بہتر بنایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کی صوبائی و شہری حکومت عزاداران امام حسینؑ کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے، عزاداری ہماری آئینی، قانونی اور شہری حق ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، صدیوں سے نواسہ رسول ؐ امام حسینؑ کی یاد میں عزاداری جاری ہے، عزاداری کو کوئی ختم نہیں کرسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کراچی کے صدر علامہ صادق جعفری و دیگر رہنماؤں علامہ مبشر حسن، رضی حیدر، حسن کاظمی، آصف صفوی، محمد عباس سمیت دیگر نے وحدت ہاوس صوبائی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ماہ محرم 1447ہجری کی آمد آمد ہے، محرم میں علماء کرام و ذاکرین عظام امامت کے اسلوب حکومت و سیاست لوگوں کے سامنے بیان کریں، جلوس و مجالس کے روٹس پر صفائی ستھرائی اور لائٹنگ کے موثر انتظامات کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیپرا کے الیکٹرک اور دیگر بجلی فراہم کرنے والے اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ محرم الحرام میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ یقینی بنائے، اس محرم میں پہلے سے زیادہ مظلوموں کی حمایت میں آواز بلند ہوگی، شیعہ سنی مل کر نواسہ رسولؐ کی یاد منائیں گے، عزاداری ہماری میراث ہے اور ہمیں اس کا تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ و شہری حکومت کراچی کی خستہ حالی پر رحم کریں، سارا ملبہ وفاقی بجٹ پر ڈال کر اپنی جان نہ چھڑائیں، مون سون کی بارشوں کو گزرے سال گزر چکا ہے، شہر کی سڑکیں ناقص سیوریج نظام کے باعث گڑھوں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی و شہری حکومتیں شہر کا بجٹ کہاں خرچ کرتی ہیں، پیپلز پارٹی نے اس شہر کو بدترین شہر کے نہج پر پہنچا دیا ہے، بلدیاتی مسائل کے حوالے سے کراچی میں محرم الحرام سے قبل اعلیٰ سطح سے لے کر نچلی سطح پر ملاقاتیں ہوچکی ہیں مگر کہیں بھی انتظامات نظر نہیں آرہے، صرف میٹنگ کرنا کافی نہیں عملی اقدامات ضروری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عزاداری ہمارے لئے فرض ہے اور قیامت تک قائم رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت مختلف جگہوں سے را کے ایجنٹوں کی گرفتاری کی اطلاعات ملی ہیں، علما اور خطبا کے ساتھ مجالس کے بعد سیکورٹی حکومت سندھ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری مسائل پورے کراچی میں ہیں، میئر صاحب نے محرم سے قبل مسائل کے حل کیلئے اب تک کوئی خاطر خواہ کوششیں نہیں کی اور نا ہی ان مسائل کے حل کیلئے کوئی اجلاس بلایا گیا یے، شہر میں دو مسئلے سب سے زیادہ اہم ہیں، واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی وجہ سے تباہ حالی ہے، سیوریج کا پانی سڑکوں پر بہہ رہا ہے، ایک روز بعد محرم شروع ہونے والا ہے مگر میئر صاحب نے کسی سے رابطہ نہیں کیا ہے، مرکزی شاہراہوں کے ساتھ کچرے کے ڈھیر نظر آتے ہیں، سندھ حکومت، میئر کراچی اور ایم کیو ایم کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ یہ انسانیت کا پیغام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ نے محرم سے پہلے اپنی بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، شہر کے مضافاتی علاقوں کا دورہ کریں تو پتا چلے گا آپ کے نااہل وزیر اعلیٰ اور میئر نے کوئی کام نہیں کیا، پورا کراچی شہر غلاظت کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محرم میں کراچی عزاداری کا سب سے بڑا مرکز ہوتا ہے، چند روز پہلے جو سروے رپورٹ آئی ہے کہ کراچی رہنے کے قابل شہروں میں سب سے پیچھے جاچکا ہے، وزیر بلدیات کے پاس اربوں روپے کا بجٹ ہے ترقیاتی کام نظر نہیں آرہے ییں، ہم وزیر اعلیٰ سندھ و وزیر بلدیات سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شہر کے سنگین بلدیاتی مسائل کے حل کیلئے خصوصی فنڈ جاری کریں گے، عشرہ محرم الحرام سے قبل مجالس و جلوس ہائے عزاء کے روٹس پر مکمل صفائی و ستھرائی، بجلی، سکیورٹی سمیت دیگر انتظامات کو بہتر بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسائل کے حل کیلئے انہوں نے کہا کہ محرم الحرام سے کا کہنا تھا کہ شہر کے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔