عمران کی فیملی ایک طرف، گنڈا پور دوسری طرف ہیں، علی محمد خان
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
رہنما پیپلز پارٹی شیری رحمن کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی پبلک میں تاریخی تنبیہ ہوئی ہے جس کا وہ سننے کا عادی نہیں ہے، سیز فائر کی معمولی خلاف ورزی ہوئی ہے لیکن یہ بھی دیکھیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ عادت سے مجبور ہو جائیں، اسرائیل نے فلسطین کی جنگ بندی کی کوئی900 خلاف ورزیاں کی ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ لبنان میں جو حالیہ جنگ بندی کا معاملہ تھا وہاں انھوں نے جنگ بندی کی حامی بھر کہ بھی52 خلاف ورزیاں کی ہیں، میں پھر کہوں گی کہ یہاں انھیں پبلیکلی تنبیہ کی گئی ہے تو شاید وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کریں۔
رہنما تحریک انصاف علی محمد خان نے کہا کہ میرا نہیں خیال یہ تاثر درست ہے کہ عمران خان کی فیملی ایک طرف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپوردوسری طرف ہیں، کسی چیز پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے، جہاں تک میں علی امین کو جانتا ہوں وزیر اعلیٰ صاحب یہی چاہتے ہیںکہ بجٹ بھی پاس ہو لیکن صوبائی حکومت بچی رہے، حکومت عمران خان صاحب کی امانت ہے اور ایک طرح سے آخری قلعہ ہے، میں خود بھی اس پر یقین رکھتا ہوں صوبائی حکومت عمران خان صاحب کا آخری اور سب سے مضبوط قلعہ ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں سے تحریک انصاف کو اسٹرنتھ ملتی ہے۔
سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان تو بات چیت کیلیے تیار ہے، کبھی بھی انکار نہیں کیا جو انکار ہے پچھلے نو سال سے وہ ہندوستان کی طرف سے ہے، امریکا نے بھی جب ان کو تجویز دی تب بھی انھوں نے اس کا جواب نہیں دیا، اگر آج ہندوستان اپنے رویے پر نظر ثانی کرے تو بات چیت کل ہو سکتی ہے لیکن وہ ابھی تک کر نہیں رہا، اس کی وجہ اس کا جو ایک گھمنڈ تھا، تکبر تھا، وہ یہ سمجھتا تھا کہ اس نے پاکستان کو تنہا کر دیا ہے یا تنہا کرنا چاہتا ہے، یہ سب باتیں غلط ثابت ہوئی ہیں، جو جو یہ کام کرتے تھے پہ در پہ ناکامیاں ہو رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔