لاہور ایئرپورٹ کو یکم جولائی سے مخصوص اوقات میں بند رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
لاہور:
مون سون سیزن میں لاہور ایئرپورٹ کو یکم جولائی سے مخصوص اوقات میں بند رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
لاہور ایئرپورٹ کے رن وے کو مخصوص اوقات میں بند کرنے کے حوالے سے اجلاس ہوا، جس میں مون سون سیزن کے دوران ایئرپورٹ کے اطراف میں پرندوں کی موجودگی سے متعلق غور کیا گیا۔
پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو یکم جولائی سے 15 ستمبر تک صبح کے اوقات میں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، پرندوں کی بھرمار کی وجہ سے صبح 5 بجے سے 8 بجے تک بند رن وے بند رہے گا۔
تمام ائیر لائنز کو پروازوں کے شیڈول میں تبدیلی کی ہدایت کر دی گئی، چیک اِن کی دستیابی اور ’’ایئر کرافٹ پارکنگ بے‘‘ کو مد نظر رکھتے ہوئے فلائٹ شیڈول کو مرتب کیا جائے۔
ایئر لائنز انتظامیہ لاونج کی استعداد کے حساب سے اپنی پروازوں کو ایڈجسٹ کریں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان اوقات میں بند
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔