لاجسٹک سروسزپرودہولڈنگ ٹیکس سے ٹرانسپورٹ سیکٹرکو تباہ ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (کامرس ڈیسک ) لاہور چیمبر ا?ف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے وفاقی بجٹ میں لاجسٹک سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس میں اضافہ واپس لینے اور دیگر مسائل فوری طور پر حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر لاہور چیمبر میاں ابوذر شاد نے کہا کہ وفاقی بجٹ 2025-26میں لاجسٹک سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس کو 4 فیصد سے بڑھا کر 6 فیصد کر دینا ٹرانسپورٹ انڈسٹری پر ایک ایسا وار ہے جو اسے مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر لا سکتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فی الفور اس فیصلے پر نظرثانی کرے اور 4 فیصد کی پرانی شرح کو بحال کرے۔انہوں نے کہا کہ راوی لنک روڈ پر موجود لاہور کا واحد جنرل ٹرک اسٹینڈ اب شہر کی بڑھتی ہوئی ا?بادی اور کاروباری حجم کے لیے ناکافی ہو چکا ہے۔لاہور شہر سے باہر بین الاقوامی معیار کے نئے ٹرک ٹرمینل کے قیام کے لیے حکومت فوری طور پر زمین الاٹ کرے تاکہ شہر سے گڈز فارورڈنگ ایجنسیوں کی منتقلی ممکن ہو سکے جس سے نہ صرف شہر کی ٹریفک میں کمی ا?ئے گی بلکہ ماحولیاتی ا?لودگی میں بھی واضح کمی ہوگی۔پریس کانفرنس میں نائب صدر لاہور چیمبر شاہد نذیر چودھری، ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ریاض تاجک، پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر نبیل محمود طارق، سینئر نائب صدر حاجی عرفان سلطان، نائب صدور محمد احمد خان، مرزا ارشد اقبال بیگ، ممتاز علی خان اور دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی اور گڈز ٹرانسپورٹ انڈسٹری کے مسائل کو تفصیل سے اجاگر کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لاہور چیمبر
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔