اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ پر لازم ہے کہ وہ عزاداران امام حسین (ع) کو سہولیات فراہم کرے اور امن و امان کے قیام کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے۔ اسلام ٹائمز۔ محرم الحرام کی آمد کے پیش نظر ایام عزا کے دوران امن و امان اور سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنانے کے لئے کمشنر قلات ڈویژن شاہزیب کاکڑ کی زیر صدارت ایک اہم آن لائن اجلاس منعقد ہوا۔ جس کا مقصد عاشورا محرم، مجالس عزاء اور جلوس ہائے عزا کے دوران امن، تحفظ اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔ اجلاس میں ڈی آئی جی خضدار عبدالحمید، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی، ایم ڈبلیو ایم ضلع حب کے صدر و بانی جلوس عاشورہ سید قربان علی رضوی، متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ایس ایس پیز، پولیس افسران، بلدیاتی نمائندگان اور علماء کرام نے شرکت کیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ محرم الحرام حضرت امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی اور معرکۂ حق و باطل کی یاد ہے۔ امت مسلمہ ماہ محرم الحرام کے دوران نواسہ رسول (ص) حضرت امام حسین علیہ السلام کا غم مناتی ہے۔ حکومت اور انتظامیہ پر لازم ہے کہ وہ عزاداران امام حسین علیہ السلام کو سہولیات فراہم کرے اور امن و امان کے قیام کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے۔ ضلع حب کے مختلف مقامات اور خضدار میں مجالس عزاء اور جلوس عزاء منعقد ہوتے ہیں۔ ان مجالس عزاء اور جلوس ہائے عزاء کے دوران سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے جائیں۔

ایم ڈبلیو ایم حب کے ضلع صدر سید قربان علی رضوی نے حب شہر میں جلوس عاشورا کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ روایتی راستے، لائٹنگ، صفائی، پانی اور سکیورٹی جیسے امور پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ماضی میں ضلعی انتظامیہ اور ایم ڈبلیو ایم کے باہمی تعاون سے بہترین مثال قائم ہوئی، جسے اس سال بھی جاری رکھا جائے۔ کمشنر قلات شاہزیب کاکڑ نے اجلاس کے شرکاء کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت، عزاداران امام حسین علیہ السلام کو مکمل تحفظ فراہم کرے گی۔ پولیس، لیویز اور تمام متعلقہ ادارے جلوسوں اور مجالس کے تمام راستوں کا از سر نو جائزہ لیں، حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی جائے اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کے مؤثر انتظامات کئے جائیں۔ ڈی آئی جی عبدالحمید نے کہا کہ پولیس فورس مکمل الرٹ ہے، اور ضلعی سطح پر سکیورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ فوری رسپانس ٹیمیں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔ آخر میں یہ طے پایا کہ علماء کرام، سول انتظامیہ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے آپس میں مکمل رابطہ و تعاون برقرار رکھیں گے، تاکہ محرم الحرام کے دوران امن، وحدت اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ دیا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امام حسین علیہ السلام محرم الحرام علامہ مقصود کے دوران کہا کہ

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور